ہے اور جہاں تک میرے بدن میں طاقت ہے اس ہمدردی کے لئے مشغول ہوں۔ اور میں جیسا کہ قوموں کا ہمدرد ہوں ایسا ہی گورنمنٹ انگریزی کا شکرگذار اور سچے دل سے اس کا خیر خواہ ہوں اور مفسدہ پردازیوں سے بدل بیزار ہوں۔
ایک اور نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ پنڈت لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی اس کے وقوع سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی خبر دی گئی ہے جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں یہ الہام ہے لن ترضی عنک الیھود ولا النصاریٰ۔ و خرقوا لہٗ بنینَ و بنات بغیر علم۔ قل ھواللّٰہ احد اللّٰہ الصَمَد لَم یَلد و لم یولَد ولم یکن لہ کفوا احد۔ ویمکرون و یمکراللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین۔ الفتنۃ*ھھنا فاصبر کما صَبَر اوؔ لواالعزم۔ قل رب ادخلنی مدخل صدق ولا تیئس من روح اللّٰہ الا ان روح اللّٰہ قریب۔ الا ان نصراللّٰہ قریب۔ یاتیک من کل فج عمیق۔ یاتون من کل فج عمیق۔ ینصرک اللّٰہ من عندہ۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء۔ لا مبدل لکلمات اللّٰہ۔
انا فتحنالک فتحا مبینا۔ یعنی پادری لوگ اور یہودی صفت مسلمان تجھ سے راضی نہیں
حاشیہ ۔ براہین احمدیہ میں تین فتنوں کا ذکر ہے۔ اول بڑا فتنہ عیسائی پادریوں کا جنہوں نے مکاری سے تمام جہان میں شور مچا دیا کہ آتھم کی پیشگوئی جھوٹی نکلی اور یہودی صفت مولویوں اور ان کے ہم مشرب مسلمانوں کو ساتھ ملالیا دیکھو صفحہ ۲۴۱۔ دوسرا فتنہ جو دوسرے درجہ پر ہے محمد حسین بٹالوی کا فتنہ ہے جس فتنہ کی نسبت براہین کے صفحہ ۵۱۰ میں یہ لکھا ہے و اذ یمکربک الذی کفر اوقد لی یاھامان لعلی اطلع الی الٰہؔ موسٰی۔ و انی لاظنہ من الکاذبین۔ تبت یدا ابی لھب و تب ما کان لہ ان یدخل فیھا الا خائفا۔۔ وما اصابک فمن اللّٰہ۔ الفتنۃ ھھنا فاصبر کما صبراولواالعزم۔ الا انھا فتنۃ من اللّٰہ لیحبّ حبّا جمّا۔ حبّا من اللّٰہ العزیز الاکرم عطاءً ا غیر مجذوذ۔ یعنی وہ زمانہ یاد رکھ کہ جب ایک منکر تجھ سے مکر کرے گا اور اپنے دوست ہامان کو کہے گا کہ فتنہ کی آگ بھڑکا کہ میں موسیٰ کے خدا پر اطلاع پانا چاہتا ہوں اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہوگیا اس کو نہیں چاہئے تھا کہ تکفیر اور تکذیب کے امر میں دخل دیتا مگر یہ کہ ڈرتا ہوا ان باتوں کو پوچھ لیتا کہ جو اس کو سمجھ نہیں آتی تھیں اور تجھے جو کچھ پہنچے گا وہ خدا کی طرف سے ہے۔