اور قوموں کے درمیان سے بغض اور کینے دور ہو جائیں۔ کیونکہ عداوت اور دشمنی کی زندگی مرنے کے قریب قریب ہے۔
اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہو سکتا۔ اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ ’’میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔ پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو۔ مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو۔ اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصوؔ ر ہو سکے۔ پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کیلئے ہونی چاہئے۔ اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑادے تو اس طریق کو اختیار کرے۔ یہ طریق نہایت سادہ اور راستی کا فیصلہ ہے۔ شاید اس طریق سے ہمارے مخالف مولویوں کو بھی فائدہ پہنچے۔ میں نے سچے دل سے یہ لکھا ہے مگر یاد رہے کہ ایسی آزمائش کرنے والا خود قادیان میں آوے اس کا کرایہ میرے ذمہ ہوگا۔ جانبین کی تحریرات چھپ جائیں گی۔ اگر خدا نے اس کو ایسے عذاب سے ہلاک نہ کیا جس میں انسان کے ہاتھوں کی آمیزش نہ ہو تو میں کاذب ٹھہروں گا۔ اور تمام دنیا گواہ رہے کہ اس صورت میں اسی سزا کے لائق ٹھہروں گا۔ جو مجرم قتل کو دینی چاہئے میں اس جگہ سے دوسرے مقام نہیں جا سکتا۔ مقابلہ کرنے والے کو آپ آنا چاہئے۔ مگر مقابلہ کرنے والا ایک ایسا شخص ہو جو دل کا بہت بہادر اور جوان اور مضبوط ہو۔ اب بعد اس کے سخت بے حیائی ہوگی کہ کوئی غائبانہ میرے پر ایسے ناپاک شبہات کرے میں نے طریق فیصلہ آگے رکھ دیا ہے۔ اگر میں اس کے بعد روگردان ہو جاؤں تو مجھ پر خدا کی *** اور اگر کوئی اعتراض کرنے والا بہتانوں سے باز نہ آوے اور اس طریق فیصلہ سے طالب تحقیق نہ ہو تو اس پر ***۔ اے شتاب کار لوگو
جیسا کہ تمہارا گمان ہے مجھے کسی قوم سے عداوت نہیں۔ ہریک نوع انسان سے ہمدردی