ہوں گے۔ اور خدا کے بیٹے اور بیٹیاں انہوں نے بنا رکھی ہیں۔ ان کو کہہ دے کہ خدا وہی ہے جو ایک ہے اور بے نیاز ہے نہ اس کا کوئی بیٹا اور نہ وہ کسی کا باپ اور نہ کوئی اس کا ہم کفو اور یہ لوگ مکر کریں گے (یہ آتھم کی ظہور پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے) اور خدا بھی مکر کرے گا کہ ان کو ذرہ مہلت دے گا تا اپنے جھوٹے خیالات سے خوش ہو جائیں۔ اور پھر فرمایا کہ اس وقت پادریوں اور یہود صفت مسلمانوں کی طرف سے ایک فتنہ برپا ہوگا۔ پس تو صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ اور خدا سے اپنے صدق کا ظہور مانگ یعنی دعا کر کہ پیشگوئی کے اس جگہ ایک فتنہ ہوگا پس تجھے صبر کرنا چاہئے جیسا کہ اولوالعزم نبی صبر کرتے رہے۔ یاد رکھ کہ وہ فتنہ خدا کی طرف سے ہوگا۔ تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے خدا کا پیار جو اللہ عزیز اکرم سے ہے۔ یہ وہ عطا ہے جو واپس نہیں لی جائے گی۔ اس وقت مجھے یہ سمجھ آیا ہے کہ الہام میں ہامان سے مراد نذیر حسین محدث دہلوی ہے کیونکہ پہلے سب سے محمد حسین اس کی طرف التجا لے گیا۔ اور یہ کہا کہ او قد لی یاھامان اس کا یہ مطلب ہے کہ تکفیر کی بنیاد ڈال دے تا دوسرے اس کی پیروی کریں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نذیر حسین کی عاقبت تباہ ہے اگر توبہ کر کے نہ مرے۔ اور ممکن ہے کہ ابو لہب سے مراد بھی نذیر حسین ہی ہو۔ اور محمد حسین کا انجام اس آیت پر ہو 33 ۱؂ کیونکہ بعض رؤیا اس عاجز کی اس تاویل کی مؤیّد ہیں۔ پس خدا کے فضل سے کچھ تعجب نہیںؔ کہ یہ متواتر تائیدوں کو دیکھ کر آخر توبہ کرے اور ہامان مارا جائے۔ تیسرا فتنہ جو تیسرے درجہ پر ہے لیکھرام کی موت کا فتنہ ہے یعنی آریوں کی بدگمانیاں اور ضرر رسانی کے لئے پوشیدہ کوششیں جیسا کہ پیسہ اخبار میں بھی ان کے قتل کے ارادوں کا ذکر ہے اور براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں اس فتنہ اور اس کے ساتھ کے نشان کی نسبت یہ الہام ہیمیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔الفتنۃ ھھنا فاصْبر کما صبر اولواالعزم فلما تجلّٰی ربّہ للجبل جعلہ دکّا۔ یعنی اس جگہ ایک فتنہ ہوگا پس صبر کر۔ اور جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔ یہ براہین احمدیہ کے الہام ہیں۔ مگر اس تحریر کے وقت ابھی ایک الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔ سَلامَت بَر تو اے مَردِ سَلامَت