کی نسبت سرکشی کی تعلیم کرتا ہے۔ خدا کی کلام کو بدنام کرنا یہ بددیانتی ہے۔ لہٰذا انسانوں کی بھلائی کے لئے یہ بات نہایت قرین مصلحت ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی طرف سے اصلیت مذاہب شائع کرنے کے لئے جلسہ مذاہب ہو۔
یہ بھی عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اسلامی تعلیم کے رو سے دین اسلام کے حصے صرف دو ہیں یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلیم دو بڑے مقاصد پر مشتمل ہے۔ اول ایک خدا کو ؔ جاننا۔ جیسا کہ وہ فی الواقعہ موجود ہے۔ اور اس سے محبت کرنا اور اسکی سچی اطاعت میں اپنے وجود کو لگانا جیسا کہ شرط اطاعت و محبت ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی میں اپنے تمام قویٰ کو خرچ کرنا اور بادشاہ سے لے کر ادنیٰ انسان تک جو احسان کرنیوالا ہو شکر گزاری اور احسان کے ساتھ معاوضہ کرنا۔ اسی لئے ایک سچا مسلمان جو اپنے دین سے واقعی خبر رکھتا ہو اس گورنمنٹ کی نسبت جس کی ظل عاطفت کے نیچے امن کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے ہمیشہ اخلاص اور اطاعت کا خیال رکھتا ہے اور مذہب کا اختلاف اس کو سچی اطاعت اور فرمانبرداری سے نہیں روکتا۔ لیکن پادریوں نے اس مقام میں بھی بڑا دھوکہ کھایا ہے اور ایسا سمجھ لیا ہے کہ گویا اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کا پابند دوسری قوموں کا بدخواہ اور بد اندیش بلکہ انکے خون کا پیاسا ہوتا ہے۔ ہاں یہ قبول کر سکتے ہیں کہ بعض مسلمانوں کی عملی حالتیں اچھی نہیں ہیں۔ اور جیسا کہ ہر ایک مذہب کے بعض لوگ غلط خیالات میں مبتلا ہو کر نالائق حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں اسی قماش کے بعض مسلمان بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ خدا کی تعلیم کا قصور نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی سمجھ کا قصور ہے جو خدا کی کلام میں تدبّر نہیں کرتے اور اپنے نفس کے جذبات کے تابع رہتے ہیں۔ خاص کر جہاد کا مسئلہ جو بڑے نازک شرائط سے وابستہ تھا بعض نادانوں اور کم عقلوں نے ایسا الٹا سمجھ لیا ہے کہ اسلامی تعلیم سے بہت ہی دور جا پڑے