کے ساتھ اسلامی واقعات پہنچائے گئے ہیں ایک سچے نقشہ پر اطلاع پاجائیگا۔ بلکہ انگلستان کے لوگ ہر ایک مذہب کی سچی فلاسفی سے مطلع ہو جائیں گے۔ یہ بات بھروسہ کرنے کے لائق نہیں ہے کہ پادریوں کے ذریعہ سے ہندوستان کے مذاہب کی حقیقت انگلستان کو پہنچتی رہتی ہے کیونکہ پادریوں کی کتابیں جن میں وہ دوسرے مذاہب کا ذکر کرتے ہیں اس کثیف نالی کی طرح ہیں جس کا پانی بہت سی میل کچیل اور خس و خاشاک ساتھ رکھتا ہے پادری صاحبان سچائی کی حقیقت کو کھولنا نہیں چاہتے بلکہ چھپانا چاہتے ہیں۔ اور انکی تحریروں میں تعصب کی ایسی رنگ آمیزی ہے جس کی وجہ سے انگلستان تک مذاہب کی اصل حقیقت پہنچنا مشکل بلکہؔ محال ہے۔ اگر ان میں نیک نیتی ہوتی تو وہ قرآن پر ایسے اعتراض نہ کرتے جو موسیٰ کی توریت پر بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ان کو خدا کا خوف ہوتا تو وہ ان کتابوں کو اعتراض کے وقت تمسّک بہا نہ ٹھہراتے۔ جو مسلمانوں کے نزدیک غیر مسلّم اور یقینی سچائیوں سے خالی ہیں۔ اس لئے انصاف یہی حکم دیتا ہے کہ اگر سارا یورپ فرشتہ سیرت بھی ہو مگر پادری اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یورپ کے عیسائی جو اسلام کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کا یہی سبب ہے کہ قدیم سے یہی پادری صاحبان خلاف واقعہ قصوں کو پیش کر کے تحقیر کا سبق ان کو دیتے چلے آئے ہیں۔ ہاں میں قبول کرتا ہوں کہ بعض نادان مسلمانوں کا چال چلن اچھا نہیں اور نادانی کی عادات ان میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بعض وحشی مسلمان ظالمانہ خونریزیوں کا نام جہاد رکھتے ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ رعیت کا عادل بادشاہ کے ساتھ مقابلہ کرنا اس کا نام بغاوت ہے نہ کہ جہاد۔ اور عہد توڑنا اور نیکی کی جگہ بدی کرنا اور بے گناہوں کو مارنا اس حرکت کا مرتکب ظالم کہلاتا ہے نہ غازی۔ سویہ خیالات پادریوں کی بدفہمی سے پیدا ہوئے ہیں خدا کی کتاب میں اسکا نشان نہیں۔ خدا کاکلام ظالمانہ تلوار اٹھانے والوں کیلئے تلوار کی سزا بیان فرماتا ہے نہ کہ امن قائم کرنے والوں، رعیت پرور اور ہر ایک قوم کو آزادی کے حقوق دینے والوں