ہیں۔ اسلام ہمیں ہرگز یہ نہیں سکھلاتا کہ ہم ایک غیر قوم اور غیر مذہب والے بادشاہ کی رعایا ہوکر اور اسکے زیر سایہ ہر ایک دشمن سے امن میں رہ کر پھر اسی کی نسبت بد اندیشی اور بغاوت کا خیال دل میں لاویں۔ بلکہ وہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر تم اس بادشاہ کا شکر نہ کرو جس کے زیر سایہ تم امن میں رہتے ہو تو پھر تم ؔ نے خدا کا شکر بھی نہیں کیا۔ اسلام کی تعلیم نہایت پُرحکمت تعلیم ہے اور وہ اسی نیکی کو حقیقی نیکی قرار دیتا ہے جو اپنے موقعہ پر چسپاں ہو۔ وہ صرف رحم کو پسند نہیں کرتا جب تک انصاف اس کے ساتھ نہ ہو۔ اور صرف انصاف کو پسند نہیں کرتا جب تک اس کا ضروری نتیجہ رحم نہ ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ قرآن نے ان باریک پہلوؤں کا لحاظ کیا ہے جو انجیل نے نہیں کیا۔ انجیل کی تعلیم ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دی جائے۔ مگر قرآن کہتاہے۔33 ۱ یعنی اصول انصاف یہی ہے کہ جس کو دکھ پہنچایا گیا ہے وہ اسی قدر دکھ پہنچانے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن اگر کوئی معاف کردے اور معاف کرنا بے محل نہ ہو بلکہ اس سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو تو ایسا شخص خدا سے اجر پائے گا۔ ایسا ہی انجیل کہتی ہے کہ کسی نامحرم کی طرف شہوت سے مت دیکھ‘‘۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ نامحرم کی طرف ہرگز نہ دیکھ نہ شہوت سے اور نہ غیر شہوت سے۔ کیونکہ پاک دل رہنے کیلئے اس سے عمدہ تر کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
اسی طرح قرآن عمیق حکمتوں سے پُر ہے۔ اور ہر ایک تعلیم میں انجیل کی نسبت حقیقی نیکی کے سکھلانے کیلئے آگے قدم رکھتا ہے۔ بالخصوص سچّے اور غیر متغیر خدا کے دیکھنے کا چراغ تو قرآن ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ دنیا میں نہ آیا ہوتا تو خدا جانے دنیا میں مخلوق پرستی کا عدد کس نمبر تک پہنچ جاتا۔ سو شکر کا مقام ہے کہ خدا کی وحدانیت جو زمین سے گم ہوگئی تھی۔ دوبارہ قائم ہوگئی۔