کے دلائل کو سنتا رہا اور ان پر غور کرتا رہا۔ آخر جو مؤحّد فرقہ تھا اور حضرت یسوع مسیح کو صرف خدا کا رسول اور نبی جانتا تھا وہ غالب آگیا اور دوسرے فرقہ کو ایسی شکست آئی کہ اسی مجلس میں قیصر روم نے ظاہر کر دیا کہ میں نہ اپنی طرف سے بلکہ دلائل کے زور سے مؤحد فرقہ کی طرف کھینچا گیا۔ اور قبل اس کے جو اس مجلس سے اٹھے توحید کا مذہب اختیار کرلیا۔ اور اُن مؤحّد عیسائیوں میں سے ہوگیا جن کا ذکر قرآن شریف میں بھی ہے۔ اور بیٹا اور خدا کہنے سے دستبردار ہوگیا اور پھر تیسرے قیصر تک ہر ایک وارث تخت روم موَحّد ہوتا رہا۔ اس سے پتہ ؔ لگتا ہے کہ ایسے مذہبی جلسے پہلے عیسائی بادشاہوں کا دستور تھا اور بڑی بڑی تبدیلیاں ان سے ہوتی تھیں۔ ان واقعات پر نظر ڈالنے سے نہایت آرزو سے دل چاہتا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا بھی قیصر روم کی طرح ایسا مذہبی جلسہ پایہ تخت میں انعقاد فرماویں کہ یہ روحانی طور پر ایک یادگار ہوگی۔ مگر یہ جلسہ قیصر روم کی نسبت زیادہ توسیع کے ساتھ ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہماری ملکہ معظمہ بھی اس قیصر کی نسبت زیادہ وسعت اقبال رکھتی ہیں۔ اور اس التماس کا ایک یہ بھی سبب ہے کہ جب سے کہ اس ملک کے لوگوں نے امریکہ کے جلسہ مذاہب سے اطلاع پائی ہے طبعاً دلوں میں یہ جوش پیدا ہوگیا ہے کہ ہماری ملکہ معظمہ بھی خاص لندن میں ایسا جلسہ منعقد فرمائیں تاکہ اس تقریب سے اس ملک کی خیر خواہ رعایا اور ان کے رئیسوں اور عالموں کے گروہ خاص لندن پایہ تخت میں شرف لقاء حضور حاصل کرسکیں اور اس تقریب سے ملکہ معظمہ کو بھی اپنے برٹش انڈیا کی وفادار رعایا کے ہزار ہا چہروں پر یکدفعہ نظر پڑ سکے اور چند ہفتہ تک لندن کے کوچوں اور گلیوں میں ہندوستان کے معزز باشندے سیر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ہاں یہ ضروری ہوگا کہ اس جلسہ مذاہب میں ہر ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے دوسروں سے کچھ تعلق نہ رکھے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ جلسہ بھی ہماری ملکہ معظمہ کی طرف سے ہمیشہ کیلئے ایک روحانی یادگار ہوگا۔ اور انگلستان جس کے کانوں تک بڑی خیانتوں