نام رکھنا جو *** کا مفہوم ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی توہین ہوگی؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مقرّب مقرّب کہہ رہے ہیں اور جو خدا کے نور سے نکلا ہے اگر اسکا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اسکی کس قدر اہانت ہے؟!! افسوس اس توہین کو یسوع کی نسبت اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے اختیار کر رکھا ہے۔ اے ملکہ معظمہ! یسوع مسیح سے تُو یہ نیکی کر خدا تجھ سے بہت نیکیؔ کرے گا۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ اس کارروائی کیلئے خداتعالیٰ آپ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کے دل میں القا کرے۔ پیلاطوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا ناانصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آکر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا اور یسوع جو بے گناہ تھا اس کو نہ چھوڑا۔ لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہوکر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کیلئے کوشش کر۔اس وقت ہم اپنی نہایت پاک نیّت سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کیلئے جرأت کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزت کو اس داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کرکے دکھلا۔ بیشک شہنشاہوں کے حضور میں ان کی استمزاج سے پہلے بات کرنا اپنی جان سے بازی ہوتی ہے لیکن اس وقت ہم یسوع مسیح کی عزت کے لئے ہر ایک خطرہ کو قبول کرتے ہیں اور محض اس کی طرف سے رسالت لے کر بحیثیت ایک سفیر کے اپنے عادل بادشاہ کے حضور میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ اے ہماری ملکہ معظمہ! تیرے پر بیشمار برکتیں نازل ہوں۔ خدا تیرے وہ تمام فکر دور کرے جو تیرے دل میں ہیں۔ جس طرح ہو سکے اس سفارت کو قبول کر۔ تمام مذہبی مقدمات میں یہی ایک قانون قدیم سے چلا آیا ہے کہ جب کسی بات میں دو فریق تنازعہ کرتے ہیں تو اول منقولات کے ذریعہ سے اپنے تنازعہ کو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب منقولات سے وہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو معقولات کی طرف توجہ کرتے ہیں اور عقلی دلائل سے تصفیہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب کوئی مقدمہ عقلی دلائل سے بھی طے ہونے میں نہیں آتا تو آسمانی فیصلہ کے خواہاں