وہ ؔ بالکل خدا سے برگشتہ اور بے ایمان ہو جائے۔ اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔ اسی لئے لُغت کے رو سے لعین شیطان کا نام ہے یعنی خدا سے برگشتہ ہونے والا اور اس کا نافرمان۔ پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ خدا کے ایسے پیارے کی نسبت ایک سیکنڈ کیلئے بھی تجویز کر سکیں کہ نعوذ باللہ کسی وقت دل اس کا درحقیقت خدا سے برگشتہ اور اس کا نافرمان اور دشمن ہوگیا تھا؟ کس قدر بے جا ہوگا کہ ہم اپنی نجات کا ایک فرضی منصوبہ قائم کرنے کیلئے خدا کے ایسے پیارے پر نافرمانی کا داغ لگاویں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ کسی وقت وہ خدا سے باغی اور برگشتہ بھی ہوگیا تھا۔ اس سے بہتر ہے کہ انسان اپنے لئے دوزخ قبول کرے مگر ایسے برگزیدہ کی پاک عزت اور بے لوث زندگی کا دشمن نہ بنے۔ جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے کیونکہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔ اسی دعویٰ کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور ہر ایک کو بلایا گیا ہے کہ اگر چاہے تو نشانوں کے ذریعہ سے اس دعویٰ میں اپنی تسلی کرے۔ اور اس جگہ اس قدر لکھنے کی میں نے اس لئے جرأت کی ہے کہ حضرت یسوع مسیح کی سچی محبت اور سچی عظمت جو میرے دل میں ہے اور نیز وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا ان تمام امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہو کر بادب التماس کروں کہ جس طرح خداتعالیٰ کی طرف سے جناب ممدوحہ کروڑہا انسانوں کی جان و مال و آبرو کی محافظ ٹھہرائی گئی ہیں بلکہ چرندوں اور پرندوں کے آرام کے لئے بھی حضرت موصوفہ نے قوانین جاری کئے ہیں کیا خوب ہوکہ جناب کو اس چھپی ہوئی توہین پر بھی نظر ڈالنے کیلئے توجہ پیدا ہو جو یسوع مسیح کی شان میں کی جاتی ہے۔ کیا خوب ہوکہ جناب ممدوحہ دنیا کی تمام لغات کے رو سے عموماً اور عربی اور عبرانی کے رو سے خصوصاً لفظ