کہؔ میں ان آسمانی نشانوں کی حضرت عالی قیصرہ ہند میں اطلاع دوں۔ میں حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آجکل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آتے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔ ایک اور بڑی بھاری مصیبت قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خدا کے دائمی پیارے اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے *** کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا۔ لیکن عیسائیوں نے بھی اس بہتان میں کسی قدر شراکت اختیار کی۔ کیونکہ یہ گمان کیا گیا ہے کہ گویا یسوع مسیح کا دل تین دن تک *** کے مفہوم کا مصداق بھی رہا ہے۔ اس بات کے خیال سے ہمارا بدن کانپتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ کیا مسیح کا پاک دل اور خدا کی ***!!! گو ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو۔ افسوس! ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ کسی وقت اس کا دل *** کے مفہوم کا مصداق بھی ہوگیا تھا۔ اس وقت ہم یہ عاجزانہ التماس کسی مذہبی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کامل انسان کی حفظ عزت کیلئے پیش کرتے ہیں اور یسوع کی طرف سے رسول کی طرح ہوکر جس طرح کشفی عالم میں اس کی زبان سے سنا حضور قیصرہ ہند میں پہنچا دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ جناب ممدوحہ اس غلطی کی اصلاح فرمائیں۔ یہ اس زمانہ کی ایک فاحش غلطی ہے کہ جبکہ لوگوں نے *** کے مفہوم پر غور نہیں کی تھی۔ لیکن اب ادب تقاضا کرتا ہے کہ نہایت جلدی اس غلطی کی اصلاح کر دی جائے اور خدا کے اس اعلیٰ درجہ کے پیارے اور برگزیدہ کی عزت کو بچایا جائے۔ کیونکہ زبان عرب اور عبرانی میں *** کا لفظ خدا سے دور اور برگشتہ ہونے کیلئے آتا ہے۔ اور کسی شخص کو اس وقت لعین کہا جاتا ہے کہ جب