***ؔ کے مفہوم کی تفتیش کریں اور تمام لغات کے فاضلوں کی اس امر کیلئے گواہیاں لیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ملعون صرف اس حالت میں کسی کو کہا جائے گا جب کہ اس کا دل خدا کی معرفت اور محبت اور قرب سے دور پڑگیا ہو اور جبکہ بجائے محبت کے اس کے دل میں خدا کی عداوت پیدا ہوگئی ہو۔ اسی وجہ سے لغت عرب میں لعین شیطان کا نام ہے۔ پس کس طرح یہ ناپاک نام جو شیطان کے حصہ میں آگیا ایک پاک دل کی طرف منسوب کیا جائے۔ میرے مکاشفہ میں مسیح نے اپنی بریت اس سے ظاہر کی ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ مسیح کی شان اس سے برتر ہے۔ *** کا مفہوم ہمیشہ دل سے تعلق رکھتا ہے اور یہ نہایت صاف بات ہے کہ ہم خدا کے مقرب اور پیارے کو کسی تاویل سے ملعون اور *** کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے۔ یہ یسوع مسیح کا پیغام ہے جو میں پہنچاتا ہوں۔ اس میں میرے سچے ہونے کی یہی نشانی ہے جو مجھ سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔ اگر حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان توجہ کریں تو میرا خدا قادر ہے کہ ان کی تسلی کے لئے بھی کوئی نشان دکھاوے۔ جو بشارت اور خوشی کا نشان ہو بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد میرے پیغام کو قبول کرلیں اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے مگر نشان خدا کے ارادہ کے موافق ہوگا نہ انسان کے ارادہ کے موافق ہاں فوق العادت ہوگا اور عظمت الٰہی اپنے اندر رکھتا ہوگا۔* حضور ملکہ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کو خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعویٰ کیلئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے۔ اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو۔ لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔ یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔ منہ