رکھتاؔ ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔
اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔ یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفّارہ اور تثلیث اور ابنیّت ہے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افترا جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔ یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب حق نیّت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہّ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے۔ کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ انگلستان و ہند کی خدمت عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔
دنیا کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھیں گے کیونکہ وہ آسمانی اسرار پر کم ایمان رکھتے ہیں لیکن تجربہ کرنے والے ضرور اس سچائی کو پائیں گے۔
میری سچائی پر اور بھی آسمانی نشان ہیں جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں اور اس ملک کے لوگ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ اب میں اس آرزو میں ہوں کہ جو مجھے یقین بخشا گیا ہے۔ وہ دوسروں کے دلوں میں کیونکر اتارا جائے۔ میرا شوق مجھے بیتاب کر رہا ہے