دےؔ کر آسمان کی بادشاہت عطا کی جہاں نہ کوئی دشمن چڑھائی کرسکے اور نہ آئے دن اس میں جنگوں اور خونریزیوں کے خطرات ہوں اور نہ حاسدوں اور بخیلوں کو منصوبہ بازی کا موقعہ ملے۔ اور چونکہ اس نے مجھے یسوع مسیح کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی سو ریاست کا کاروبار تباہ ہونے سے یہ مشابہت بھی متحقق ہوگئی جس کو خدا نے پورا کیا۔ کیونکہ یسوع کے ہاتھ میں داؤد بادشاہ نبی اللہ کے ممالک مقبوضہ میں سے جس کی اولاد میں سے یسوع تھا ایک گاؤں بھی باقی نہیں رہا تھا صرف نام کی شہزادگی باقی رہ گئی تھی۔
ہرچند میں اس قدر تو مبالغہ نہیں کر سکتا کہ مجھے سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ لیکن میں شکر کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ نے ان تمام صعوبتوں اور شدتوں کے بعد جن کا اس جگہ ذکر کرنا بے محل ہے مجھے ایسے طور سے اپنی مہربانی کی گود میں لے لیا جیسا کہ اس نے اس مبارک انسان کو لیا تھا جس کا نام ابراہیم تھا۔ اس نے میرے دل کو اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ باتیں میرے پر کھولیں جو کسی پر نہیں کھل سکتیں جب تک اس پاک گروہ میں داخل نہ کیا جائے جن کو دنیا نہیں پہچانتی۔ کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور اور دنیا ان سے دور ہے۔ اس نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدود خدا ہے جسکی مانند اور کوئی نہیں اور اس نے مجھے اپنے مکالمہ کا شرف بخشا۔ اور اس نے بلاواسطہ اپنے راہ کی مجھے تعلیم دی ہے۔ اور مرور زمانہ سے جو قوموں کے عقیدہ میں غلطیاں واقع ہوئیں ان سب پر مجھے مطلع فرمایا ہے۔
اس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے۔ اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے