کہؔ یہ لوگ بنی نوع کی خونریزی سے خوش ہوتے ہیں۔ مگر یہ قرآنی تعلیم نہیں ہے اور نہ سب مسلمان اس خیال کے ہیں۔ یہ پادریوں کی بھی خیانت ہے کہ ناحق دائمی جہاد کے مسئلہ کو قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور اس طرح پر بعض نادانوں کو دھوکہ میں ڈال کر نفسانی جوشوں کی طرف ان کو توجہ دیتے ہیں۔ اور میں نہ اپنے نفس سے اور نہ اپنے خیال سے بلکہ خدا سے مامور ہوں کہ جس گورنمنٹ کے سایہ عطوفت کے نیچے میں امن کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں اس کیلئے دعا میں مشغول رہوں اور اس کے احسانات کا شکر کروں اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھوں۔ اور جو کچھ مجھے فرمایا گیا ہے نیک نیتی سے اس تک پہنچاؤں۔ لہٰذا اس موقعہ جوبلی پر جناب ملکہ معظمہ کے ان متواتر احسانات کو یاد کر کے جو ہماری جان اور مال اور آبرو کے شامل حال ہیں۔ ہدیہ شکرگزاری پیش کرتا ہوں اور وہ ہدیہ دعائے سلامتی و اقبال ملکہ ممدوحہ ہے جو دل سے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ سے نکلتی ہے۔
اے قیصرہ و ملکہ معظمہ! ہمارے دل تیرے لئے دعا کرتے ہوئے جناب الٰہی میں جھکتے ہیں اور ہماری روحیں تیرے اقبال اور سلامتی کیلئے حضرت احدیّت میں سجدہ کرتی ہیں۔ اے اقبال مند قیصرہ ہند! اس جوبلی کی تقریب پر ہم اپنے دل اور جان سے تجھے مبارکباد دیتے ہیں۔ اور خدا سے چاہتے ہیں کہ خدا تجھے ان نیکیوں کی بہت بہت جزا دے جو تجھ سے اور تیری بابرکت سلطنت سے اور تیرے امن پسند حکام سے ہمیں پہنچی ہیں۔ ہم تیرے وجود کو اس ملک کیلئے خدا کا ایک بڑا فضل سمجھتے ہیں اور ہم ان الفاظ کے نہ ملنے سے شرمندہ ہیں جن سے ہم اس شکر کو پورے طور پر ادا کر سکتے۔ ہر ایک دعا جو ایک سچا شکرگزار تیرے لئے کر سکتا ہے ہماری طرف سے تیرے