حقؔ میں قبول ہو۔ خدا تیری آنکھوں کو مرادوں کے ساتھ ٹھنڈی رکھے اور تیری عمر اور صحت اور سلامتی میں زیادہ سے زیادہ برکت دے اور تیرے اقبال کا سلسلہ ترقیات جاری رکھے اور تیری اولاد اور ذرّیت کو تیری طرح اقبال کے دن دکھاوے۔ اور فتح اور ظفر عطا کرتا رہے۔ ہم اس کریم و رحیم خدا کا بہت بہت شکر کرتے ہیں جس نے اس مسرت بخش دن کو ہمیں دکھایا۔ اور جس نے ایسی محسنہ رعیّت پرور داد گُستر بیدار مغز ملکہ کے زیر سایہ ہمیں پناہ دی۔ اور ہمیں اس کے مبارک عہد سلطنت کے نیچے یہ موقعہ دیا کہ ہم ہر ایک بھلائی کو جو دنیا اور دین کے متعلق ہو حاصل کر سکیں۔ اور اپنے نفس اور اپنی قوم اور اپنے بنی نوع کیلئے سچی ہمدردی کے شرائط بجا لا سکیں۔ اور ترقی کی ان راہوں پر آزادی سے قدم مار سکیں۔ جن راہوں پر چلنے سے نہ صرف ہم دنیا کی مکروہات سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ ابدی جہان کی سعادتیں بھی ہمیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ یہ تمام نیکیاں اور انکے وسائل جناب قیصرہ ہند کی عہد سلطنت میں ہم کو ملی ہیں۔ اور یہ سب خیر اور بھلائی کے دروازے اسی ملکہ معظمہ مبارکہ کے ایام بادشاہت میں ہم پر کھلے ہیں تو اس سے ہمیں اس بات پر قوی دلیل ملتی ہے کہ جناب قیصرہ ہند کی نیّت رعایا پروری کیلئے نہایت ہی نیک ہے۔ کیونکہ یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ بادشاہ کی نیت رعایا کے اندرونی حالات اور انکے اخلاق اور چال چلن پر بہت اثر رکھتی ہے۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی حصہ زمین پر نیک نیّت اور عادل بادشاہ حکمرانی کرتا ہے تو خداتعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ اس زمین کے رہنے والے اچھی باتوں اور نیک اخلاق کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ اور خدا اور خلقت کے ساتھ اخلاص کی عادت ان میں پیدا ہوجاتی ہے۔ سو یہ امر ہر ایک آنکھ کو بدیہی طورپر نظر آرہا ہے کہ برٹش انڈیا