انگرؔ یزی آزادی سے فائدہ اٹھاؤں اور نیز اسلامی جوش کے لوگوں کو اس جائز امر کی طرف توجہ دے کر ناجائز خیالات اور جوشوں سے ان کے جذبات کو روک دوں۔ مسلمان لوگ ایک خونی مسیح کے منتظر تھے اور نیز ایک خونی مہدی کی بھی انتظار کرتے تھے۔ اور یہ عقیدے اس قدر خطرناک ہیں کہ ایک مفتری کاذب مہدی موعود کا دعویٰ کر کے ایک دنیا کو خون میں غرق کر سکتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں میں اب تک یہ خاصیت ہے کہ جیسا کہ وہ ایک جہاد کی رغبت دلانے والے فقیر کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ ایسی تابعداری بادشاہ کی بھی نہیں کر سکتے۔ پس خدا نے چاہا کہ یہ غلط خیالات دور ہوں اس لئے اس نے مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کا خطاب دے کر میرے پر ظاہر فرمایا کہ کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر غلط خیال ہے۔ بلکہ خدا ارادہ فرماتا ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ سچ کو دنیا میں پھیلاوے۔ سو میرا اصول یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کو اپنی بادشاہیاں مبارک ہوں ہمیں ان کی سلطنت اور دولت سے کچھ غرض نہیں ہمارے لئے آسمانی بادشاہی ہے۔ ہاں نیک نیتی سے اور سچی خیرخواہی سے بادشاہوں کو بھی آسمانی پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ لیکن اس گورنمنٹ برطانیہ کی نسبت نہ صرف اس قدر ہے بلکہ چونکہ ہم اس دولت کے سایہ عاطفت کے نیچے بَامَنْ زندگی بسر کر سکتے ہیں اس لئے اس دولت کیلئے ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی دنیا اور آخرت کیلئے دعا بھی کریں۔
افسوس کہ جس وقت سے میں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ خبر سنائی ہے کہ کوئی خونی مہدی یا خونی مسیح دنیا میں آنے والا نہیں ہے بلکہ ایک شخص صلح کاری کے ساتھ آنے والا تھا جو میں ہوں اس وقت سے یہ نادان مولوی مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھ کو کافر اور دین سے خارج ٹھہراتے ہیں۔ عجیب بات ہے