تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیونکر آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں۔ پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزارہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیرخواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اُن کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کیلئے ایک وفادار فوج ہے جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیرخواہی سے بھرا ہوا ہے۔
میں نے اپنی تالیف کردہ کتابوں میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جو کچھ نادان مولوی تلوار کے ذریعہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ امر سچے مذہب کیلئے دوسرے رنگ میں گورنمنٹ برطانیہ میں حاصل ہے۔ یعنی ہر ایک شخص بتمام ترآزادی اپنے مذہب کا اثبات اور دوسرے مذہب کا ابطال کر سکتا ہے۔ اور میری رائے میں مسلمانوں کیلئے مذہبی خیالات کے اظہار میں قانونی حد تک وسیع اختیارات ہونے میں بڑی پُرخیر مصلحت ہے کیونکہ وہ اس طور سے اپنی اصل غرض کو پاکر جنگجوئی کی عادات کو جو کتاب اللہ کی غلط فہمی سے بعضوں میں پائی جاتی ہیں بھلا دیں گے۔ وجہ یہ کہ جیسا کہ ایک منشّی چیز کا استعمال کرنا دوسری منشّی چیز سے فارغ کر دیتا ہے۔ ایسا ہی جب ایک مقصد ایک پہلو سے نکلتا ہے تو دوسرا پہلو خود سست ہو جاتا ہے۔
انہیں اغراض سے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ مذہبی مباحثات کے بارے میں