انساؔ نیہ کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ایک طبعی امر ہے۔ اور توبہ اور دعا کرنا عذاب کے وقتوں میں انسان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ یعنی توبہ اور استغفار سے عذاب ٹل بھی جاتا ہے جیسا کہ یونس نبی کی قوم کا عذاب ٹل گیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی دعا سے کئی دفعہ بنی اسرائیل کا عذاب ٹل گیا۔ سو خدا تعالیٰ کا ان کفار کو جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں پر بہت سختی کی تھی یہاں تک کہ عورتیں اور بچے بھی قتل کئے تھے۔ تلوار کے عذاب سے شکنجہ میں گرفتار کرنا اور پھر ان کی توبہ اور رجوع اور حق پذیری سے نجات دے دینا یہ وہی خدا کی قدیم عادت ہے جس کا مشاہدہ ہر زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے۔ غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں اسلامی جہاد کی جڑ یہی تھی کہ خدا کا غضب ظلم کرنے والوں پر بھڑکا تھا۔ لیکن کسی عادل گورنمنٹ کے سایہ معدلت کے نیچے رہ کر جیسا کہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی سلطنت ہے پھر اس کی نسبت بغاوت کا قصد رکھنا اس کا نام جہاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک نہایت وحشیانہ اور جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے۔ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے آزادی سے زندگی بسر ہو اور پورے طور پر امن حاصل ہو اور فرائض مذہبی کماحقہٗ ادا کر سکیں اسکی نسبت بدنیتی کو عمل میں لانا ایک مجرمانہ حرکت ہے نہ جہاد۔ اسی لئے ۱۸۵۷ء میں مفسدہ پرداز لوگوں کی حرکت کو خدا نے پسند نہیں کیا اور آخر طرح طرح کے عذابوں میں وہ مبتلا ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی محسن اور مربی گورنمنٹ کا مقابلہ کیا۔ سو خداتعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکرگزاری کی جائے۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس مسئلہ پر عملدرآمد کرانے کیلئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں