میںؔ ہم یہ علامتیں پاویں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی موت اور انصاف کے دن کو یاد کر کے ایسے بزرگ پیشوا کی اہانت نہ کریں بلکہ سچی تعظیم اور سچی محبت کریں۔ غرض یہ وہ پہلا اصول ہے جو ہمیں خدا نے سکھلایا ہے جس کے ذریعہ سے ہم ایک بڑے اخلاقی حصہ کے وارث ہوگئے ہیں۔
اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانوں میں مشہور ہے۔ سو مجھے خداتعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آج کل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔ بے شک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور یشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا۔ اور اس کی بنا صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کیلئے ناحق تلواریں اٹھائیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہا تک پہنچایا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے۔ مگر پھر بھی یہ عذاب موسیٰ کی لڑائیوں کی طرح بہت سختی اپنے اندر نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ جو شخص قبول اسلام کے ساتھ اگر وہ عربی ہے یا جزیہ کے ساتھ اگر وہ غیر عربی ہے پناہ لیتا تھا تو وہ عذاب ٹل جاتا تھااور یہ طریق بالکل قانون قدرت کے موافق تھا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے عذاب جو وباؤں کے رنگ میں دنیا پر نازل ہوتے ہیں وہ صدقہ خیرات اور دعا اور توبہ اور خشوع اور خضوع کے ساتھ بیشک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب شدت سے وبا کی آگ بھڑکتی ہے تو طبعاً دنیا کی تمام قومیں دعا اور توبہ اور استغفار اور صدقہ خیرات کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرنے کیلئے ایک طبعی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت طبائع