خلاؔ صہ یہ کہ دنیا کی بھلائی اور امن اور صلح کاری اور تقویٰ اور خداترسی اسی اصول میں ہے کہ ہم ان نبیوں کو ہرگز کاذب قرار نہ دیں جن کی سچائی کی نسبت کروڑہا انسانوں کی صدہا برسوں سے رائے قائم ہو چکی ہو۔ اور خدا کی تائیدیں قدیم سے ان کے شامل حال ہوں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک حق کا طالب خواہ وہ ایشیائی ہویا یوروپین ہمارے اس اصول کو پسند کرے گا اور آہ کھینچ کر کہے گا کہ افسوس ہمارا اصول ایسا کیوں نہ ہوا۔
میں اس اصول کو اس غرض سے حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ امن کو دنیا میں پھیلانے والا صرف یہی ایک اصول ہے جو ہمارا اصول ہے اسلام فخر کر سکتا ہے کہ اس پیارے اور دلکش اصول کو خصوصیت سے اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم ایسے بزرگوں کی کسر شان کریں جو خدا کے فضل نے ایک دنیا کو ان کے تابعدار کر دیا اور صدہا برسوں سے بادشاہوں کی گردنیں ان کے آگے جھکتی چلی آئیں؟ کیا ہمیں روا ہے کہ ہم خدا کی نسبت یہ بدظنی کریں کہ وہ جھوٹوں کو سچّوں کی شان دے کر اور سچوں کی طرح کروڑہا لوگوں کا ان کو پیشوا بنا کر اور ان کے مذہب کو ایک لمبی عمر دے کر اور ان کے مذہب کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہتا ہے؟ اگر خدا ہی ہمیں دھوکا دے تو پھر ہم راست اور ناراست میں کیونکر فرق کر سکتے ہیں؟
یہ بڑا ضروری مسئلہ ہے کہ جھوٹے نبی کی شان و شوکت اور قبولیت اور عظمت ایسی پھیلنی نہیں چاہئے جیسا کہ سچّے کی۔ اور جھوٹوں کے منصوبوں میں وہ رونق پیدا نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ سچّے کے کاروبار میں پیدا ہونی چاہئے۔ اسی لئے سچے کی اول علامت یہی ہے کہ خدا کی دائمی تائیدوں کا سلسلہ اسکے شامل حال ہو اور خدا اسکے مذہب کے پودہ کو کروڑہا دلوں میں لگا دیوے اور عمر بخشے۔ پس جس نبی کے مذہب