اور ؔ عزت نہیں دیتا جو سچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذہب جڑ نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے جیسا کہ سچے کا جڑ پکڑتا اور عمر پاتا ہے۔ پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو بُرا کہا جائے۔ اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں۔ اور نہ یہ کہ اس کو برے الفاظ سے یاد کریں بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستورالعمل پر اعتراض کریں۔ اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خداتعالیٰ کی طرف سے کروڑہا انسانوں میں عزت پاگیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔ مفتری کو عزت دینا اور کروڑہا بندوں میں اس کے مذہب کو پھیلانا اور زمانہ دراز تک اس کے مفتریانہ مذہب کو محفوظ رکھنا خدا کی عادت نہیں ہے۔ سو جو مذہب دنیا میں پھیل جائے اور جم جائے اور عزت اور عمر پاجائے وہ اپنی اصلیت کے رو سے ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ پس اگر وہ تعلیم قابل اعتراض ہے تو اس کا سبب یا تو یہ ہوگا کہ اس نبی کی ہدایتوں میں تحریف کی گئی ہے۔ اور یا یہ سبب ہوگا کہ ان ہدایتوں کی تفسیر کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اور یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ہم اعتراض کرنے میں حق پر نہ ہوں۔ چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض پادری صاحبان اپنی کم فہمی کی وجہ سے قرآن شریف کی ان باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں جن کو توریت میں صحیح اور خدا کی تعلیم مان چکے ہیں۔ سو ایسا اعتراض خود اپنی غلطی یا شتاب کاری ہوتی ہے۔