رکھ لے اور اپنے گلے میں رسہ ڈال اور مجھے سچا کر کے دکھلا۔ اب میں منصفوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسے پلید اور *** انسان کا یہ چال چلن دیکھ کراور یہ شیطانی منصوبہ سن کر کوئی مرید اس کا معتقد رہ سکتا ہے کیا وہ مرشد کو ایک بدکار ملعون اور فاسق فاجر خیال نہیں کرے گا؟ اور کیا وہ اس کو یہ نہیں کہے گا کہ اے بدکار ہمارے ایمان کو خراب کرنے والے کیا تیری پیشگوئیوں کی اصلیت یہی تھی۔ کیا تیرا یہ منشاء ہے کہ جھوٹ تو تو بولے اور رسّہ دوسرے کے گلے میں پڑے اور اس طرح تیری پیشگوئی پوری ہو۔ جس قدر دنیا میں نبی اور مرسل گذرے ہیں یا آگے مامور اور محدث ہوں کوئی شخص ان کے مریدوں میں اس حالت میں داخل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوگا جبکہ ان کو مکار اور منصوبہ باز سمجھتا ہو۔ یہ رشتہ پیری مریدی نہایت ہی نازک رشتہ ہے۔ ادنیٰ بدظنی سے اس میں فرق آجاتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ اپنے مریدوں کی جماعت میں دیکھا کہ بعض ان میں سے صرف اس وجہ سے میری نسبت شبہ میں پڑ گئے کہ میں نے ایک عذر بیماری سے جس کی انہیں اطلاع نہیں تھی نماز کے قعدہ التحیات میں دہنے پیر کو کھڑا نہیں رکھا تھا۔ اتنی بات میں دو آدمی باتیں بنانے لگے اور شبہات میں پڑ گئے کہ یہ خلاف سنت ہے۔ ایک مرتبہ چائے کی پیالی بائیں ہاتھ سے میں نے پکڑی کیونکہ میرے دہنے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی اور کمزور ہے۔ اسی پر بعض نے نکتہ چینی کی کہ خلاف سنت ہے۔ اور ہمیشہ ایسا ہوتا رہتا ہے کہ بعض نو مرید ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر اپنی نا فہمی سے ابتلا میں پڑ جاتے ہیں اور ادنیٰ ادنیٰ خانگی امور تک نکتہ چینیاں شروع کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کو بھی اسی طرح تکلیف دیتے تھے۔ کیونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس کے پیرو ہر ایک انسان کے قول و فعل کو راستبازی اور تقویٰ کے پیمانہ سے ناپتے ہیں۔ اور اگر اس کے مخالف پاتے ہیں تو پھر فی الفور اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔ سو سوچنا چاہئے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایسے لوگ اس بدمعاش شخص کے ساتھ وفا کر سکیں جس کا تمام کاروبار مکروں اور منصوبوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور لوگوں کو ناحق کے خون کرنے کے لئے مامور کرناؔ چاہتا ہے تا اس کا ناک نہ کٹے اور پیشگوئی پوری ہو۔ کوئی انسان