عمداً اپنے ایمان کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ پھر اگر ایسی سازش میں بفرض محال کوئی مرید شریک ہو تو تمام مریدوں میں یہ بات کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ہماری جماعت میں بڑے بڑے معزز داخل ہیں بی اے۔ اور ایم اے اور تحصیلدار اور ڈپٹی کلکٹراور اکسٹرا اسسٹنٹ اور بڑے بڑے تاجر۔ اور ایک جماعت علماء و فضلاء۔ تو کیا یہ تمام لچّوں اور بدمعاشوں کا گروہ ہے؟ ہم بآواز بلند کہتے ہیں کہ ہماری جماعت نہایت نیک چلن اور مہذب اور پرہیزگار لوگ ہیں۔ کہاں ہے کوئی ایسا پلید اور *** ہمارا مرید جس کا یہ دعویٰ ہو کہ ہم نے اس کو لیکھرام کے قتل کے لئے مامور کیا تھا؟ ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیشگوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے اپنے مکر سے اپنے فریب سے ان کے پورے ہونے کے لئے کوشش کرے اور کراوے۔
پس افسوس کہ اخبار پنجاب سماچار مطبوعہ ۱۰؍ مارچ میں سازش کا الزام جو ہم پر لگایا ہے یہ کس قدر سچائی کا خون ہے۔ میں صاحب اخبار سے پوچھتا ہوں کہ آپ لوگوں میں بھی بڑے بڑے اوتار گذرے ہیں۔ جیسے راجہ رام چندر صاحب اور راجہ کرشن صاحب۔ کیا آپ لوگ ان کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پیشگوئی کر کے پھر اپنی عزت رکھنے کے لئے ایسا حیلہ کیا ہو کہ کسی اپنے چیلہ کی منت خوشامد کی ہو کہ اس کو اپنی کوشش سے پوری کر کے میری عزت رکھ لے اور پھر ان کے چیلے ان کو اچھا آدمی سمجھتے ہوں۔ ہاں یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک بدمعاش ڈاکو کے ساتھ اور چند بدمعاش جمع ہوں اور ایسے کام خفیہ طور پر کریں۔ لیکن اس میرے مریدوں کے سلسلے میں جس کے ساتھ مہدی موعود اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی بڑے زور سے ہے یہ حرامزدگی کے کام میلان نہیں کھا سکتے۔ ہر ایک مرید اس بلند دعویٰ کو دیکھ کر نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ پرہیزگاری کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ دعویٰ تو یہ ہو کہ میں وقت کا عیسیٰ ہوں اور جھوٹی پیشگوئیوں کو اس طرح پر پورا کرنا چاہے کہ مریدوں کے آگے ہاتھ جوڑے کہ مجھ سے قصور ہوگیا میری پردہ پوشی کرو جاؤ آپ مرو اور کسی طرح میری پیشگوئی سچی کرو۔ کیا ایسا مردار ایک پاک جماعت