سماچار دہم مارچ ۱۸۹۷ء میں الہام کے حوالہ سے عید کا دن لکھا ہے یہ اس کی غلطی ہے الہام کی عبارت یہ ہے ستعرف یوم العید والعید اقرب یعنی تو اس نشان کے دن کو جو عید کی مانند ہے پہچان لے گا اور عید اس نشان کے دن سے بہت قریب ہوگی۔ یہ خدا نے خبر دی ہے کہ عید کا دن قتل کے دن کے ساتھ ملا ہوا ہوگا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ عید جمعہ کو ہوئی اور شنبہ کو جو شوال ۱۳۱۴ھ کی دوسری تاریخ تھی لیکھرام قتل ہوگیا۔
سو اس تمام پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ یہ ایک ہیبت ناک واقعہ ہوگا جو چھ سال کے اندر اندر وقوع میں آئے گا۔ اور وہ دن عید کے دن سے ملا ہوا ہوگا یعنی دوسری شوال کی ہوگی۔
اب سوچو کیا یہ انسان کا کام ہے کہ تاریخ بتلائی گئی۔ دن بتلایا گیا۔ سبب موت بتلایا گیا۔ اور اس حادثہ کا وقوعہ ہیبت ناک طرز سے ظہور میں آنا بتلایا گیا۔ اس کا تمام نقشہ برکات الدعا کے مضمون میں کھینچ کر دکھلایا گیا۔ کیا یہ کسی منصوبہ باز کا کام ہو سکتا ہے کہ چھ برس پہلے ایسے صریح نشانوں کے ساتھ خبر دیدے اور وہ خبر پوری ہو جائے۔ توریت گواہی دیتی ہے کہ جھوٹے نبی کی پیشگوئی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ خدا اس کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے تا دنیا تباہ نہ ہو جیسا کہ لیکھرام نے بھی ایک دنیوی چالاکی سے انہیں دنوں میں میری نسبت یہ اشتہار دیا تھا کہ تم تین برس کے عرصہ تک مر جاؤ گے۔ پس کیوں وہ کسی قاتل سے سازش نہ کرسکا تا اس کی بات پوری ہوتی۔
ایک اور بات سوچنے کے لائق ہے کہ یہ بدگمانی کہ ان کے کسی مرید نے مار دیا ہوگا یہ شیطانی خیال ہے۔ ہریک دانا سمجھ سکتا ہے کہ مریدوں کا مرشد کے ساتھ ایک نازک تعلق ہوتا ہے اور اعتقاد کی بنا تقویٰ اور طہارت اور نیکوکاری پر ہوتی ہے۔ لوگ جو کسی کے مرید ہوتے ہیں وہ اسی نیت سے مرید ہوتے ہیں کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ شخص باخدا ہے اس کے دلؔ میں کوئی فریب اور فساد کی بات نہیں۔ پس اگر وہ ایک ایسا بدکار اور *** شخص ہے کہ کسی کی موت کی جھوٹی پیشگوئی اپنی طرف سے بناتا ہے اور پھر جب اس کی میعاد ختم ہونے پر ہوتی ہے تو کسی مرید کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے کہ اب میری عزت