صاحب راقم لکھتے ہیں کہ ’’اگرچہ آپ حافظ حقیقی کی حمایت میں ہیں تاہم رعایت اسباب ضروری ہے۔ اور میرے نزدیک ایسے وقت میں شریر مسلمانوں سے بھی پرہیز لازم ہے کیونکہ وہ طامع اور بدباطن ہیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ وہ بظاہر بیعت میں داخل ہو کر آریوں کی طمع دہی ہے اس کام کے لئے جرأت کریں‘‘۔ پھر صاحب راقم لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مشورہ قتل کے سرگروہ اس شہر کے بعض وکیل اور چند عہدہ دار سرکاری اور بعض آریہ رئیس و سرکردگان لاہور کے ہیں۔ جس قدر مجھے خبر پہنچی ہے میں نے عرض کر دیا واللّٰہ اعلم‘‘۔ اور اسی کا مصدق ایک خط پنڈ دادنخان سے اور کئی اور جگہ سے پہنچے ہیں اور مضمون قریب قریب ہے۔ یہ سب خط محفوظ ہیں۔ اور جس جوش کو بعض آریہ صاحبوں کے اخبار نے ظاہر کیا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ ایسے جوش کے وقت یہ خیالات بعید نہیں ہیں۔ چنانچہ ضمیمہ اخبار پنجاب سماچار لاہور میں میری نسبت یہ چند سطریں لکھی ہیں۔ ’’ایک حضرت نے شاید اپنی مصنفہ کتاب موعود مسیحی میں یہ پیشگوئی بھی کی کہ پنڈت لیکھرام چھ سال کے عرصہ میں عید کے دن نہایت دردناک حالت میں مرے گا۔ یہ پیشگوئی اب قریب تھی کیونکہ غالباً ۱۸۹۷ء چھٹا سال تھا اور ۵؍ مارچ ۱۸۹۷ء آخری عید چھٹے سال کی تھی۔ علانیہ بذریعہ تحریر و تقریر کہا کرتے تھے کہ پنڈت کو مار ڈالیں گے۔ اور مزید براں یہ کہ پنڈت اس عرصہ میں اور فلاں دن میں ایک دردناک حالت میں مرے گا۔ کیا ؔ آریہ دھرم کے اس مخالف اور چند ایک کتب کے ایک خاص مصنف کو (یعنی اس عاجز کو) اس سازش سے کوئی تعلق نہیں ہے؟‘‘ اس اخبار والے نے اور ایسا ہی دوسروں نے اس پیشگوئی سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ ایک منصوبہ تھا جو پیشگوئی کے طور پر مشہور کیا گیا۔ جیسا کہ وہ اسی اخبار کے دوسرے صفحہ میں لکھتا ہے کہ ’’یہ قتل کئی ایک اشخاص کی مدت کی سوچی اور سمجھی ہوئی اور پختہ سازش کا نتیجہ ہے‘‘۔ ہم اس بات کو خود مانتے اور قبول کرتے ہیں کہ پیشگوئی کی تشریح میں بار بار تفہیم الٰہی سے یہی لکھا گیا تھا کہ وہ ہیبت ناک طور پر ظہور میں آئے گی۔ اور نیز یہ کہ لیکھرام کی موت کسی بیماری سے نہیں ہوگی بلکہ خدا کسی ایسے کو اس پر مسلط کرے گا جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا ہوگا۔ مگر جو پنجاب