وقد کنتُ لِلّٰہِ الّذی کَانَ مَلْجَائِیْ وذٰلک سرٌّ بین روحی ومُزعِقی اور میں اس خدا کے لئے ہو گیا جو میرے پناہ ہے اور یہ بھید ہے مجھ میں اور میری فریادگاہ میں رأیتُ وجوہًا ثم آثرتُ وَجْہَہٗ فواہًا لہ ولوجہہ المتألِّقِ میں نے کئی منہ دیکھے پس اس کا منہ اختیار کر لیا پس کیا اچھا وہ ہے اور کیا اچھا ہے اس کا منہ چمکنے والا أُحِبُّ بروحی فالِقَ الحبِّ والنوی وإنی لأَوَّلُ مَن نَوَی کلَّ مُلْزَقِ میں اپنی جان کے ساتھ اس کودوست رکھتا ہوںجو دانہ اس کے جرم سے علیحدہ کرنے والا ہے اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے ہر ایک پیوستہ کو پھینک دیا ہے وللہِ أسرار بعاشق وجہہ فسَلْ مَن یشاہد بعضَ ہذا التعلُّقِ اور خدا کو اس کے عاشق کے ساتھ بھید ہیں پس اس شخص سے پوچھ جو اس تعلق کو دیکھنے والا ہے لِحِبِّی خواصٌّ فِی الوصَالِ وفُرقۃٍ ففی القُرْب یحیینی وفی البُعْد یُوبِقِ میرے دوست کے لئے وصال اور جدائی میں خواص ہیں پس وہ قرب میں زندہ کرتا ہے اور دوری میں ہلاک کرتا ہے وأُعطیتُ مِن حِبِّی قمیصَ خلافۃٍ قمیصَ رسول اللّٰہ أبیضَ أَمْہَقِ اور میں اپنے پیارے کی طرف سے قمیص خلافت دیا گیا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قمیص جو بہت سفید ہے وأُعطیتُ عَلَمَ الفتح عَلَمَ محمَّدٍؐ وأُعْطِیتُ سیفًا جَذَّ أصلَ التَّخَلُّقِ اور میںفتح کا جھنڈا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے دیا گیا ہوں اور میں وہ تلوار دیا گیا ہوں جس نے جڑ دروغگوئی کی کاٹ دی فتلک علاماتٌ علٰی صدق دعوتی فإن کنتَ تطلبہا ففَتِّشْ وعَمِّقِ پس میرے صدق دعویٰ پر یہ علامتیں ہیں پس اگر تو ان علامتوں کو طلب کرتا ہے پس تفتیش کر اور سوچ وإنّ صراطی مثل جَسْرٍ علی اللظی حفافاہ نارٌ فَأْتِنی أیّہا التّقی اور میری راہ دوزخ پر پُل ہے اور دونوں کنارے اس کے آگ ہے پس اے پرہیز گار میرے پاس آجا إذا ما تحامَتْنی الأراذلُ کلہم فأیقنتُ أن شریفَ قومی سیلتقی اور جب تمام رزیلوں نے مجھے چھوڑ دیا پس میں نییقین کیا کہ جو میری قوم کا شریف ہے وہضرور مجھ سے ملے گا أری اللہَ یُخزی الفاسقین ویصطفی عبادًا لہٗ قُتِلوا بسَیْفِ التعشُّقِ میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فاسقوں کو رسوا کرے گا اور اپنے بندوں کوجو عشق کی تلوار سے قتل کئے گئے چن لے گا ویأتی زمانٌ إنّ ربّی بفَضْلِہٖ یَجُذُّ رؤوس المُفْسدین ویفرُقِ اور وہ زمانہ آتا ہے کہ میرا رب اپنے فضل سے مفسدوں کے سرکاٹے گا اور جدا کرے گا