أ تحسبُ أن القول قولُ الأجانبِ وقد صُبَّ مِن عینی کماء ٍ مُدَغْفِقِ کیا تو گمان کرتا ہے کہ یہ قول غیروں کا قول ہے حالانکہ یہ میرے چشمہ سے پانی ٹپکنے والے کی طرح گرایا گیا ہے فما ہی إلَّا کلمۃٌ قیل مثلہا فقالوا أعانَ علیہ قومٌ کمُشْفِقِ پس یہ تو ایسا کلمہ ہے کہ پہلے ایسا کہا گیا ہے اور لوگوں نے کہا کہ اس کی دوسروں نے مدد کی ہے ففَکِّرْ أَتَعلمُ مُنشئًا لی کتَمْتُہ فیملو۱؎ ا القصائد لی بحِجْرِ التأبُّقِ پس فکر کر کیا ایسا منشی تجھے معلوم ہے جو میں نے چھپا رکھا ہے پس وہ میرے لیے پوشیدہ بیٹھ کر قصیدہ لکھتا ہے أ تنحَتُ کذبًا لیس عندک شاہدٌ علیہ وتنبَح کالکلاب وتَزْعَقِ کیا تو ایسا جھوٹ تراشتا ہے کہ اس پر تیرے پاس کوئی گواہ نہیں اور کتوں کی طرح بھونکتا اور فریاد کرتا ہے رضیتَ بحکَّاکاتِ إبلیس شقوۃً وآثرتَ سبل الغیّ یا أیّہا الشّقی شیطانی وساوس کے ساتھ تو راضی ہو گیا اور گمراہی کی راہیں اے شقی تو نے اختیار کیں أ تنکر آیاتی وقد شاہدتَہا أتُعرِض عن حق مبین مُزَوَّقِ کیا تو دیدۂ و دانستہ میرے نشانوں سے اعراض کرتا ہے کیا تو کھلے کھلے اور آراستہ حق سے انکار کرتا ہے وقد مات "آتم" عمُّک المتنصّرُ وقد حُقَّ أن تُمحٰی لُحاکُم وتُحْلَقِ اور آتھم تیرا چچا نصرانی مر گیا اور واجب ہوا کہ تمہاری داڑھیاں نابود کی جائیں اور منڈائی جائیں رأیتم جوازیکم من اللّٰہ ربِّنا ومُتّمْ کموت المفسد المتخلِّقِ لو تم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی سزائیں دیکھ لیں اور تم اس طرح مر گئے جس طرح مفسد اور دروغگو مرتا ہے وقد قطع ربّی آنُفَ الجمع کلِّہم وأخزی العِدا وأبادَ کلاً بمأزِقِ اور میرے خدا نے تمام مخالفوں کی ناک کاٹ دی اور دشمن کو رسوا کیا اور سب کو میدان میں ہلاک کر دیا تکنَّفَ قلبَک صَدأُ ظلماتِ الشقا فما إنْ أَرَی فیک الہدایۃَ تُشرِقِ تیرے دل پر انکار شقاوت محیط ہو گیا ہے پس میں نہیں دیکھتا کہ ہدایت تجھ میں چمکے وقد ضاع ما عُلِّمتَ إن کنتَ عالمًا کزُبُرٍ إذا حُمِلتْ علی ظہرِ زِہْلِقِ اگر تو عالم تھا تو تیرا سب علم برباد ہو گیا ان کتابوں کی طرح جبکہ گدھے پر لادی جائیں أراک ومَن ضاہاک رَبْرَبَ جہلۃٍ تلا بعضُکم بعضا کأحمقَ أنْزَقِ میں تجھے اور تیرے امثال کو جاہلوں کا ریوڑ دیکھتا ہوں بعض بعض کے پیچھے لگے جیسے نادان شتاب کار