أہذؔا ہو التقوی الذی فی جموعکم أتلک الأمور ومثلہا شأنُ متّقی کیا یہی تمہاری جماعتوں کا تقویٰ ہے کیا یہ امور اور ان کی مانند متقی کی شان کے لائق ہیں وَقُلتُ لکم توبوا وکُفُّوا لسَانَکُم فما کان فیکم مَن یتوب ویتّقی اور میں نے تمہیں کہا کہ توبہ کرو اور زبان کو بند رکھو پس تم میں کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ توبہ اور تقویٰ اختیار کرتا ولِلّٰہِ آیاتٌ لتأیید أمرنا وإنا کتبنا بعضہا للمُحقّقِ اور خدا نے ہمارے امر کی تائید میں کئی نشان ظاہر کئے ہیں اور بعض کو ہم نے محققوں کے لئے لکھ دیا علٰی قلبِ أہلِ اللّٰہ نزلتْ سَکینۃٌ وقلبک یا مفتونُ یَعوِی وینہَقِ اہل اللہ کے دل پر سکینت نازل ہو گئی اور تیرا دل اے فتنہ میں پڑے ہوئے گدھے کی طرح آواز کر رہا ہے أیا لاعِنِی إن السعادۃ فی التُّقَی فخَفْ قہرَ ربٍّ حافظِ الحقّ وَاتَّقِ اے میرے لعنت کرنے والے سعادت نیک بختی میں ہے پس خود نگہدارندۂ حق سے ڈر اور تقویٰ اختیار کر إذا کُتِبَ أنّ الموت لا بد تُدرِکُ فموت الفتی خیر لہ مِن تَخلُّقِ جب لکھا گیا کہ موت ضرور ہے پس مرد کا مرنا جھوٹ بولنے سے بہتر ہے ولا یفلح الإنسان إلَّا بصدقہِ وکل کَذُوبٍ لا محالۃَ یُوبَقِ اور انسان محض صدق سے نجات پاتا ہے اور ہر ایک دروغگو آخر ہلاک ہوتا ہے وما انفتحتْ شدقاک بالسبّ والہجا وتکذیبِ أہل الحق إلاَّ لِتُمْلَقِ اور تو نے گالیوں کے ساتھ اس لئے منہ کھولا ہے اور اس لئے تکذیب کرتا ہے کہ تا محو کیا جائے وإنّ سِقام الجسم ملتمَسُ الشفا ولیس دواء فی الدکاکین للشقی اور جسم کی بیماری قابل شفا ہے مگر شقاوت کی کسی دوکان میں دوا نہیں وَوَاللّٰہِ لو لا حَربتی لم تکَدْ تریٰ نَہِیکًا تَحُطُّ ضلالۃً حین تَسْمُقِ اور بخدا اگر میرا حربہ نہ ہوتا تو تو کوئی ایسا بہادر نہ پاتا کہ گمراہی کو بند ہونے سے روکتا وإنی کتبتُ قصیدتی ہٰذہ لکم فمِن حَیِّکم مَن کان حیًّا لیَنْمُقِ اور میں نے یہ قصیدہ تمہارے مقابلہ کیلئے لکھا ہے پس تمہارے گروہ میں سے جو زندہ ہے وہ بھی لکھے کَبُکْمٍ أراکم أو کأَ حْمِرَۃِ الفلا غدَا طَلْقُ ألسُنِکم کزوجٍ تُطلَّقِ میں گونگوں کی طرح تمہیں دیکھتا ہوں یا جنگل کے گدھوں کی طرح اور تمہاری زبان کی روانگی ایسی کھوئی گئی جیسا کہ عورت کو طلاق دی جاتی ہے