کی ؔنسبت جو پیشگوئی کی گئی وہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو سترہ۷۱ برس پہلے اس وقت سے براہین میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ اور نیز آثار نبویہ میں بھی اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس پیشگوئی کی دونوں پہلوئوں کے رو سے تکمیل ہو چکی اور آتھم ایک مدت سے مرچکا۔ پھر کیا اب تک وہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ کیا آتھم باکرہ لڑکی تھا جو بغیر کسی سبب قوی کے مقابل پر آنے سے شرم کی۔ آخر کوئی تو سبب تھا۔ وہ یہی سبب تھا کہ پیشگوئی کو سنتے ہی اسلامی ہیبت اس کو کھا گئی۔ وہ اندر ہی اندر گداز ہوگیا اور کسی جرأت کے لائق نہ رہا نہ قسم کے لائق اور نہ نالش کے لائق۔ جب قسم کیلئے بلایا جاتا تھا تو اس کا کلیجہ کانپ جاتا تھا۔ جب نالش کیلئے ابھارا جاتا تھا تو اس کا کانشنس اس کے منہ پر طمانچے مارتا تھا۔ مسیح نے خود قسم کھائی۔ پولوس نے کھائی۔ اس نے کیوں اشد ضرورت کے وقت نہ کھائی۔ اگر حملے ہوئے تھے تو نالش کرتا اور سزا دلاتا۔ اس کا حق تھا۔ اس نے کیوں نالش نہ کی۔ اے غزنوی لوگو! کس قدر تمہیں سچائی سے دشمنی ہے۔ کیا کوئی حد بھی ہے؟ کیا تمہارا یہی تقویٰ ہے جس کو لے کر تم پنجاب میں آئے؟!! ایک مسلمان کو کافر بناتے ہو اور خدا کے صریح اور کھلے کھلے نشانوں کا انکار کرتے ہو۔ اور پادریوں کو اپنی دجالی باتوں سے مدد دیتے ہو۔ کیا تمہیں ایسا کرنا روا تھا؟ کیا خدا ایک دجال اور کذاب کی عظمت اور قبولیت کو زمین پر پھیلا رہا ہے؟ اور تم جیسے نیک بختوں کو ذلیل کر رہا ہے۔ یا اس کو دھوکہ لگ گیا ہے۔ کیا وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا نہیں؟ کیا تم سچائی کو نابود کر دو گے؟ کیا وہ نور جو آسمان
مجھے فرمایا اطلع اللّٰہ علٰی ھمّہ و غمّہ۔ و لَن تَجِد لسُنّۃ اللّٰہ تبدیلا ولا تعجبوا ولا تحزنوا و انتم الاعلون ان کنتم مومنین وبعزتی و جلالی انک انت الاعلی۔ ونمزق الاعداء کل ممزق۔۔ ومکر اولئک ھو یَبُور۔ انا نکشف السرّعن ساقہ یومئذ یفرح المومنون۔ ثلّۃ من الاولین و ثلۃ من الاٰخرین و ھذہ تذکرۃ فمن شاء اتَّخَذَ الیٰ ربّہ سبیلا۔ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ہم و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی جب تک کہ وہ بیباکی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خداتعالیٰ کے احسان کو بھلادے (یہ معنے فقرہ مذکورہ کے
تفہیم الٰہی سے ہیں) اور پھر فرمایا کہ خداتعالیٰ کی یہی سنت ہے اور تو ربّانی سنتوں میں تغیر اور تبدّل