ہوگئیؔ۔ شرط کے موافق خدائے کریم نے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی اور پھر الہام کے موافق اس کو سات۷ مہینہ کے اندر مار دیا۔ چونکہ آتھم ڈرا اس لئے خدا نے اس کے معاملہ میں اپنی صفت رحم کو دکھلایا اور لیکھرام نہیں ڈرا اس لئے خدا نے اس کے معاملہ میں اپنی صفت قہر کو دکھلایا۔ سو خدا نے ان دونوں پیشگوئیوں سے اپنی جمالی اور جلالی صفات کا نمونہ دکھلا دیا اور ہریک کی حالت کے موافق معاملہ کیا۔ آتھم پیشگوئی کو سن کر تمام شوخیوں سے کنارہ کش ہوگیا۔ مگر لیکھرام نہ ہوا۔ آتھم نے تمام مباحثات مسلمانوں سے چھوڑ دئیے۔ مگر اس نے ہرگز نہ چھوڑے۔ آتھم اس دن تک جو میعاد کے دن پورے ہوئے مردہ کی طرح پڑا رہا اور روتا رہا۔ مگر یہ ہنستا اور ٹھٹھے کرتا رہا۔ اس نے شرم دکھلائی مگر لیکھرام نے بے شرمی اور شوخی ظاہر کی۔ اور اس نے اپنا منہ بند کرلیا۔ اور لیکھرام نے گالیوں سے اپنا منہ کھولا۔ اور خدا نے آتھم کی نسبت مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلا۔ یعنی خدا نے دیکھا کہ آتھم کا دل ہم و غم سے بھرگیا۔ اس لئے اس رحیم خدا نے تاخیر ڈال دی۔ اور پھر فرمایا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا کہ خدا اپنی عادتوں کو بدل لے۔ یعنی وہ ڈرنے والے کے ساتھ سختی نہیں کرتا۔ مگر لیکھرام نہ ڈرا اور اس کی بدقسمتی سے آتھم کا ڈرنا اس کو دلیر کر گیا یہی وجہ ہے کہ آتھم کی نسبت خدا نے نرمی سے معاملہ کیا کیونکہ وہ نرم رہا۔ اور لیکھرام سے سختی سے کیونکہ اس نے سختی دکھلائی۔ اور یہی وجہ ہے کہ آتھم کی نسبت صرف ایک دفعہ الہام ہوا اور وہ بھی شرط کے ساتھ۔ اور لیکھرام کے عذاب کے بارے میں بار بار قہری الہام ہوئے۔ غرض آتھم رجوع کرنے کا کوئی حصہ نہ لیتا تو اسی میعاد کے اندر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔ لیکن خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلا دیا کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اس کے رعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصہ لے لیا۔ جس حصہ نے اس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈالدی اور ہاویہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا۔ جس کا نام موت ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ الہامی لفظوں اور شرطوں میں سے کوئی ایسا لفظ یا شرط نہیں ہے جو بے تاثیر ہو۔ یا جس کا کسی قدر موجود ہو جانا اپنی تاثیر پیدا نہ کرے۔ لہٰذا ضرور تھا کہ جس قدر مسٹر عبد اللہ آتھم کے دل نے حق کی عظمت کو قبول کیا اس کا فائدہ اس کو پہنچ جائے۔ سو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا۔ اور