سے اؔترا ہے تم اس کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دو گے؟ اگر تم نیک انسان کی ذریت ہو تو بدی میں اپنے تئیں مت ڈالو! سمجھ جائو اور سنبھل جائو! کہ ابھی وقت ہے۔ اور آیت ۱؎ کو غور سے پڑھو۔ آگے تمہارا اختیار ہے۔!
پھر اسی اشتہار میں اسی بزرگ عبدالحق نے اور بھی گالیاں دی ہیں۔ چنانچہ صفحہ ۲`۳ و ۴ میں میری نسبت لکھتا ہے۔ ’’بدکار شیطان لعنتی۔ لعن و طعن کا جوت اس کے سر پر ذلیل خوار خستہ خراب اللہ عزّوجلّ کا دشمن۔ خدا کے ولی عبدالحق کا دشمن‘‘۔ پھر اخیر اشتہار میں پیشگوئی کرتا ہے کہ ’’عنقریب اللہ کا غضب تیرے پر اترے گا‘‘۔ میں کہتا ہوں کہ اے نا اہل نادان تو نے یہ اچھا نہیں کیا کہ خدا پر افترا کیا۔ اب دیکھ! کہ وہ غضب تیرے پر اترا یا کسی اور پر؟ کیا تیرے گلے میں لعنت کا رسہ پڑا یا کسی اور کے گلے میں؟ تو نے اسی اپنے اشتہار میں دعویٰ کیا تھا کہ میں آگ میں جا سکتا ہوں اور نہیں جلوں گا۔ اور دریا پر چلنے کیلئے حاضر ہوں اور نہیں ڈوبوں گا۔ اور ایک مہینہ تک کوٹھڑی میں بند رہنے کیلئے موجود ہوں اور نہیں مروں گا۔ لیکن اے نابکار! انہیں شوخیوں کی وجہ سے اس وقت خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ خدا کے کھلے کھلے نشان نے تجھے عذاب کی آگ میں ڈالا اور تو جل گیا اور بچ نہیں سکا۔ تیرے لئے یہ عذاب تھوڑا نہیں ہوا کہ تمام قوموں میں اس نشان کی عظمت ظاہر ہوئی۔ اس آگ نے بیشک تجھے جلا کر راکھ کر دیا۔ تو ندامت کے دریا میں بھی ڈوب گیا اور اس پر چل نہ سکا اور تو
نہیں پائے گا اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہو جائیں جو غضب الٰہی کو مشتعل کریں اور اگر دل کے کسی گوشہ میں بھی کچھ خوف الٰہی مخفی ہو اور کچھ دھڑکہ شروع ہو جائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا اور دوسرے وقت پر جا پڑتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ کچھ تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔ یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے۔ اور پھر فرمایاکہ مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے(یہ اس عاجز کو خطاب ہے) اور پھر فرمایا کہ کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کردیں گے۔ یعنی اس کو ذلت پہنچے گی اور ان کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔ اس میں یہ تفہیم ہوئی کہ تم ہی فتحیاب ہو نہ دشمن اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا۔