ذَبُّؔ الْمُفْتَرینْ
اِنَّ الّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَنِی لَایُحَارِبُوْنَ اِلاَّاللّٰہَ فَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْن
بُردباری می کند زور آورے
جاہلے فہمد کہ ہستم برترے
اس وقت میرے سامنے وہ کاغذ پڑے ہیں جن میں نام کے مسلمانوں نے مجھ کو گالیاں دی ہیں چنانچہ ان میں سے ایک عبدالحق غزنوی ہے جو اپنے اشتہار میں مجھے دجال ٹھہرا کر اپنے اشتہار کے عنوان میں لکھتا ہے کہ ضَرْبُ النّعال عَلٰی وَجْہ الدّجال یعنی اس دجال کے منہ پر جوتی مارتا ہوں۔ سو یہ تو اس نے سچ کہا کیونکہ درحقیقت وہ خود دجال ہے اور آسمان سے اسی کے منہ پر جوتی پڑی نہ کسی اور کے منہ پر۔ ابھی معلوم نہیں کہ کہاں تک اس کا سرنرم کیا جائے گا۔ ابھی تو جلسہ مذاہب سے اس وقت تک صرف دو آسمانی جوتے اس کے سر پر پڑے ہاں ضرب شدید سے پڑے جس سے کچھ ہڈیاں ٹوٹی ہوں گی۔ معلوم نہیں کہ کس وقت اس بدبخت نے یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ دعا کی طرح اس کے حق میں قبول ہوگیا۔ پھر اسی اشتہار میں یہ نادان میری نسبت لکھتا ہے کہ لعنت کا طوق اس کے گلے میں ہے۔ مگر اب اسے پوچھنا چاہئے کہ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے کہ کس کے گلے میں ہے؟ ذرہ سمجھ کر بولے کہ مذہبی جلسہ کے الہامی اشتہار نے کس کے منہ کو سیاہ کیا۔ لیکھرام کی موت نے کس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا۔ باربار یہ شخص آتھم کی پیشگوئی کی نسبت اعتراض کرتا ہے۔ جاہل کو اب تک سمجھ نہیں آتا کہ آتھم کی پیشگوئی ٭جیسا کہ الہام کے الفاظ اور الہام کی شرط تھی کامل صفائی سے پوری