کأہل الحق والیقین. وأمّا أنا فبعد اطّلاعی علٰی ذٰلک الاشتہار، سأرسل إلیہ أوراقا للاختبار، لیحکم اللّٰہ بَینی وَبَین ہذا الکَفّار، وَہُوَ أحکم الحاکمین. وإنّی أریٰ مُذ أعوام، أنّ ہذا الرجل لا یمتنع من الہذیان، ولا یتّقی أَخْذَ اللّہ الدیّان، فألجأنی بخلہ إلی ہذا الامتحان. فإن جاء المضمارَ وأثبت ما ادّعٰی، و مازَ کَلِمی من کلمات أخری،فلہ ما سمع منّا ووعَی، وإن شمّر ذیلہ وانثنَی، وما طالبَنا ما وَعَدنا وماؔ انبری، بل انساب ودخل جُحْرہ وانزوی، وما ترک التکذیب وما انتہٰی،
ما را ہمچو نیکوکاران خبر دہد و ایں عزم را در اخبار ہمچو یقین کنندگان شائع کناند۔مگر من پس بعد از اطلاع برین اشتہار چند ورق برائے امتحان سوئے او خواہم فرستاد تاکہ خداتعالیٰ درمن و او فیصلہ فرماید و خدا احکم الحاکمین است و من از چند سال مے بینم کہ ایں شخص از بیہودہ گوئی بازنمے آید۔ و از مواخذہ خداتعالیٰ نمی ترسد پس بخل او مرا برائے ایں امتحان بے قرار کرد پس اگر درمیدان آمد و آنچہ دعویٰ کرد ثابت نمود و کلمات مرا از کلمات دیگراں جداکرد پس او را آں انعام خواہم داد کہ از ما شنیدہ است و یاد داشتہ است و اگر دامن خود پیچید و برگشت و مطالبہ وعدہ مانکرد
بھلے مانسوں کی طرح ہمیں خبر دے۔ اور چاہئے کہ اس قصد کو اخباروں میں یقین کرنیوالوں کی طرح شائع کر دے۔مگر میں پس میں اشتہار پر اطلاع پانے کے بعد چند ورق امتحان کے لئے اس کی طرف بھیج دوں گا۔ تاکہ خداتعالیٰ مجھ میں اور اس میں فیصلہ کردیوے اور وہ احکم الحاکمین ہے اور میں کئی برس سے دیکھ رہا ہوں کہ یہ شخص بیہودہ گوئی سے باز نہیں آتا اور خداتعالیٰ کے مواخذہ سے نہیں ڈرتا۔ سو اس کے بخل نے اس امتحان کے لئے مجھے مجبور کیا۔ پس اگر میدان میں آیا اور جو دعویٰ کیا تھا اس کو ثابت کر دکھلایا۔ اور میرے کلموں کو دوسروں کے کلموں سے علیحدہ کر