العرباء ، ونلبس علیہ اسمنا واسم تلک الأدباء ، ثم نقول أَنْبِئْنا بقولنا وقول ہؤلاء ، إن کنت فی زرایتک من الصادقین۔ فإن عرف قولی وقولہم وأصاب فیما نوَی، وفرّق کفلق الحبّ من النویٰ، فنعطیہ خمسین رُوفیۃ صِلۃً منّا أو غرامۃً، ونحسب منہ ذٰلک کرامۃً، ونعُدّہ من الأدباء الفاضلین، ونقبل أنہ کان فیما زرَی من الصّادقین. فإن کان راضیا بہذا الاختبار، ومتصدّیًا لہذا المضمار، فلیُخبرْنا بنیّۃؔ صالحۃ کالأبرار، ولیُشِعْ ہذا العزم فی الجرائد والأخبار، این است کہ ما برو کلام خود و کلام دیگران از عرب عربا پیش کنیم وبرد نام خود و نام آن ادیباں پوشیدہ داریم۔ بازبگوئیم کہ مارا خبردہ کہ قول ما کدام است و قول ایناں کدام اگر در عیب گیری راست گو ہستی۔ پس اگر قول مرا و قول اوشاں راشناخت و درشناختن خطا نکرد۔ وچوں دانہ و خستہ آن جدا کردہ نمود پس ما او را پنجاہ روپیہ بطور انعام یاتاوان خواہیم داد و درین کرامت او خواہیم شمرد و از ادباء فاضل او را خواہیم شمرد و قبول خواہیم کرد کہ او در عیب گیری راست گوبود پس اگر بدیں آزمایش راضی باشد و برائے این میدان طیار باشد پس باید کہ پس وہ بات جو لوگوں کو اس کے جھوٹ سے نجات دے گی یہ ہے کہ ہم اس پر اپنا کلام اور بعض دوسرے ادیب عربوں کا کلام پیش کریں۔ اور اپنا اور ان کا نام اس پر پوشیدہ رکھیں۔ اور پھر اس کو کہیں کہ ہمیں بتلا کہ ان میں سے ہمارا کلام کونسا ہے اور ان کا کلام کونسا ہے اگر تو سچا ہے۔ پس اگر اس نے میرا قول اور ان کا قول شناخت کرلیا اور گٹھلی اور دانہ کی طرح فرق کرکے دکھلا دیا پس ہم اس کو پچاس روپیہ بطور انعام یا تاوان دیں گے۔ اور یہ اس کی کرامت سمجھی جائے گی۔ اور ہم اس کو ادباء فاضلین میں سے شمار کریں گے اور قبول کریں گے کہ وہ عیب گیری میں راست گو تھا