کالفاسقین. ولیس فی نفسہ جوہر من غیر تصلّفٍ کالنسوان، وخدع الناس بتزویق اللسان، وإنّہ من المزوّرین. یرید أن یُطفأ نورًا، ظلما وزورًا، ویزید الناس رہقًا وکفورًا، ویصرف عن الحق قومًا جاہلین. وواللّٰہ إنّہ لا یعلم ما البلاغۃ وأفنانہا، وکیف یحق أداء ہا وبیانہا، وما وصل مقامًا من مقامات فہم الکلام، و إن ہو کالأنعام، ومن المحرومین. فالأمر الذی یُنجّی الناس من غوائل تزویراتہ، و ہباء مقاؔلا تہ، أن نعرض علیہ کلامًا مِنّا وکلامًا آخر من بعض العرب برحضرت احدیّت مقدم داشت۔ و خداتعالیٰ خواست کہ او ر ابر دارد پس او ہمچو فاسقاں سوئے زمین میل کرد و در ہر نفس او بجز لاف زنی ہمچو زنان و آراستن زبان برائے فریب دادن مردم ہیچ جو ہرے نیست و او از دروغ آر ایان است ارادہ میکند کہ از ظلم وزور نور را بمیراند ومردم را در ظلم و کفران زیادہ کند وجاہلان را زحق باز گرداند و بخدا کہ او نمی داند کہ بلاغت چیست و شاخہائے آن چیست و چگونہ حق بیان او ادا می تواند شد و از مقامات فہم کلام بہ ہیچ مقامے نرسیدہ۔ و صرف مانند چارپایان و محرومان است۔ پس امرے کہ مردم را از دروغ گوئی او رہائی بخشد۔ صادق کی تکذیب معصیت ہے۔ لیکن اس نے آخرت کو چھوڑا اور دنیا کو اختیار کیا۔ اور نفس امارہ کو حضرت احدیت پر مقدم رکھا۔ اور خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس کو اٹھاوے۔ پس وہ فاسقوں کی طرح زمین کی طرف جھک گیا۔ اور اس میں بجز لاف زنی کے اور بغرض دھوکہ زبان آرائی کرنے کے اور کوئی جوہر نہیں اور وہ جھوٹ کو آرائش دینے والوں میں سے ہے۔ ارادہ کرتا ہے کہ نور کو بجھادے۔ اور لوگوں کو ظلم اور کفران میں زیادہ کرے۔ اور حق سے جاہلوں کو پھیردے۔ اور بخدا وہ نہیں جانتا کہ بلاغت کسے کہتے ہیں اور اس کی شاخیں کیا ہیں۔ اور کیونکر اس کے بیان کا حق ادا ہوتا ہے اور فہم کلام کے مقامات میںسے کسی مقام تک وہ نہیں پہنچا۔ اور صرف چارپایوں اور محروموں کی طرح ہے۔