وجئنا بلؤلوئٍ رَطْب فما استجاد، ونفَضنا علیہ عجماتٍ فما استحلی ثمارَنا وما أرَی الوداد، بل زاد بُخلًا وعنادًا کالمستکبرین. وقال إنّ کُتُبَ ہذا الرجلمملوّۃ من الأغلاط والأغلوطات، ومُبعَّدۃ من لطائف الأدب ومُلح المحاورات، ولیست کماء مَعین. فما حَکَمَ بما وجب، بل أخفی الحق ومنع وحجب، وتصدّی لخدع العوام بعد ما شُغف بالکلام. وکان یعلم أنّ کتم الشہادۃ مأثمۃ، وتکذیب الصادق معصیۃ، ولکنہ آثر الدنیا علی الآخرۃ، والنفسَ الأمّارۃ علیؔ الحضرۃ الأحدیّۃ. وأراد اللّٰہ أن یرفعہ فأخلدَ إلی الأرض
مردم را فریب داد و بکار ہائے باطل خود اطفال را بخندانید و دروغ صریح آورد و مامروارید تازہ آوردیم پس جید و خوب ندانست و برو درختہائے خرمافشاندیم پس برما راشیریں ندانست و دوستی نمود بلکہ دربخل و عناد ہمچو متکبراں زیادہ شد وگفت کہ کتابہائے این شخص از غلطی ہا پر ہستند واز لطائف ادب و نمکینی محاورات دور داشتہ شدہ اند و ہمچو آب رواں نیستند پس بچیزے حکم نکرد کہ واجب بود بلکہ حق را پوشیدہ کرد و از مردم بازداشت و برائے فریب دادن عوام پیش آمد بعد ز انکہ بکلام من فریفتہ شد و او میدانست کہ گواہی پوشیدہ کردن گناہ است۔ و تکذیب صادق معصیت است مگر او دنیا را بر آخرت اختیار کرد و نفس امّارہ را
اور بہت مالدار ہے اور ان لوگوں میں سے جو یگانہ ہوتے ہیں اور اسی طرح اپنی حق پوشی سے لوگوں کو دھوکہ دیا اور اپنے باطل کاموں سے لڑکوں کو ہنسایا اور صریح جھوٹ لایا۔ اور ہم تازہ موتی لائے پس اس نے ان کو اچھا نہ سمجھا اور ہم نے درخت کھجور اس پر جھاڑی پس اس نے ان کو شیریں خیال نہ کیا بلکہ متکبروں کی طرح بخل اور عناد میں بڑھ گیا۔ اور کہا کہ اس شخص کی کتابیں غلطیوں سے پر ہیں اور لطائف ادب اور نمکینی محاورات سے خالی ہیں اور صاف پانی کی طرح نہیں ہیں۔ پس وہ بات نہ کی جو واجب تھی بلکہ سچ کو چھپایا اور لوگوں کو روکا اور عوام کو دھوکہ دیا بعد اس کے کہ میری کلام پر فریفتہ ہوا۔ اور وہ خوب جانتا تھا کہ گواہی کا پوشیدہ کرنا گناہ ہے اور