إلیؔ حدٍّ أنّ الشیخ الذی ہو للطالبین کسَدٍّ زریٰ علٰی مقالی، وتکلّم فی أقوالی، وقال إنْ ہو إلا قول رقیق وما ہو بکلام جزلٍ، بل کسقطٍ وہزلٍ، ولیس من غرر البیان، ولا من محاسن الکنایات والتبیان وکل ما رصّعتُ فی کتبی من الجواہر العربیّۃ، والنوادر الأدبیۃ، واللطائف البیانیۃ، والنکات المبتکرۃ المصبیۃ، أراد المفسدُ المذکور أن یُطفی نورہا، ویمنع ظہورہا، ویجعل الناس من المنکرین أو المرتابین ومع ذٰلک ادّعی أنہ فی الأدب رحیب الباع، خصیب الرباع، ومن المتفرّدین وکذلک خدَع الناس بتلبیساتہ، وأضحک الأطفال بخزعبیلا تہ، وجاء بزُور مبین کہ شیخ بٹالہ کہ برائے طالبان مثل دیوار مانع است۔ برکلام من عیب جوئی کرد۔ و در سخن من کلام کرد۔ وگفت شک نیست کہ آں قول زشت است وکلامے خوب نیست۔ بلکہ سخن بے فائدہ و بیہودہ است و بیانے واضح و محاسن کنایات نیست و آں تمام جواہر عربیہ ونوادرادبیہ ولطائف بیانیہ ونکات دلکش کہ در کتاب خود نشاندہ بودم۔ این مفسد خواست کہ آں ہمہ نور را منطفی کند و از ظاہر شدن باز دارد و مردم را از منکران یا شک کنندگان کند و بایں ہمہ دعویٰ کرد کہ او درعلم ادب فراخ دست وبسیار مالدار است واز آناں ہست کہ متفرد ہستند و ہمچنیں بہ تلبیس ہائے خود حد تک نوبت پہنچ گئی کہ شیخ بٹالہ جو طالبوں کے لئے ایک روک ہے میری کلام پر اس نے نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ قول رکیک ہے اچھا نہیں بلکہ غلط اور بیہودہ ہے اور بیان واضح اور عمدہ کلام نہیں ہے اور وہ تمام جواہر عربیہ اور نوادر ادبیہ اور لطائف بیانیہ اور دلکش نکتے کہ میں نے اپنی کتابوں میں لکھے اس مفسد نے چاہا کہ ان کے نور کو بجھادے اور ظاہر ہونے سے روکے اور لوگوں کو منکروں یا شک کرنیوالوں میں سے کردے۔ اور پھر اس کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ علم ادب میں فراخ دست