ضمیمہ حجّۃُ اللّٰہ
نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم
قُتِلَ الانسانُ ما اَکْفرہ
أیہا الناظرون، والأدباء المنقّدون ۔ أنتم تعلمون أنی کتبتُ من قبل ہذا کتبًا فی العربیۃ، وزیّنتُہا کالبیوت المشیّدۃ المزدانۃ، ورأیتم أنہا تحکی الدُرر العمّانیۃ، وتحسی الدرر العرفانیّۃ. وکنتُ أتوقع أنّ العلماء یعُدّونہا من الآیات، ویعقدون لِزَوْری حبک النِّطاق بصحّۃ النیّات، وما زِلْتُ أسلّی بالی بہذا الأمل، حتی وجدتُہم فاسدَ النیّۃ والعمل، وبدا أنّ فراستی قد أخطأتْ، وأعین العلماء ما انفتحت، وتراء ی الیأس وآثار الرجاء انقطعتْ، وبلغ الأمر
اے بینندگان و ادیبان در مغشوش و غیر مغشوش فرق کنندگان شمامی دانید کہ من پیش ازیں چند کتابہا در عربی نوشتہ ام و آں کتاب ہا راچناں زینت دادم کہ خانہ ہازینت دادہ و بلند کردہ میشوند و شمادیدہ ایدکہ آن کتابہا درہائے عمانی رامیمانند وشیر ہائے معرفت مینوشانند ومن توقع میداشتم کہ علماء آں تالیف ہارا از جملہ نشانہا خواہند شمرد۔ و برائے دیدن من ازاربند پارچہ کمرخود بصحت نیت خواہند بست و من ہمیشہ دل خود رابدین امید بے غم میکردم۔ تا آنکہ اوشان رانیت و عمل تباہ یافتم و ظاہر شد کہ فراست من خطاکرد و چشمہائے علماء کشادہ نشدند و نومیدی ظاہر شدو نشان امید منقطع شدند۔ وکار بجائے رسید
اے دیکھنے والو اور کلام کے کھوٹے اور کھرے میں فرق کرنے والو تم جانتے ہو کہ میں نے پہلے اس سے چند کتابیں عربی میں لکھی تھیں اور ان کتابوں کو میں نے ایسی زینت دی تھی جیسا کہ گھروں کو زینت دیا جاتا اور بلند کیاجاتا ہے۔ اور تم نے دیکھا ہے کہ وہ کتابیں موتیوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور معرفت کا دودھ پلاتی ہیں اور میں امید رکھتا تھا کہ مولوی لوگ ان کتابوں کو منجملہ نشانوں کے شمار کریں گے اور میرے دیکھنے کیلئے اپنی کمر کو صحت نیت کے ساتھ باندھیں گے اور میں ہمیشہ اس امید کے ساتھ دل کو تسلی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے ان کو نیت اور کام میں خراب پایا اور ظاہر ہوگیا کہ میری فراست خطا گئی اور مولویوں کی آنکھیں نہیں کھلیں اور نومیدی ظاہر ہوگئی اور امید کی نشانیاں منقطع ہوگئیں اور اس