یہ پیشگوئی ظہور میں نہیں آئے گی۔ تو اس صورت میں ضروری ہوگا کہ اس میعاد کے آخری سیکنڈ میں پیشگوئی کا ظہور ہو۔ لیکن جبکہ خدا اپنی مصلحت سے ایک میعاد مقرر کر کے یہ ظاہر فرمائے کہ اس میعاد کے اندر اندر جس حصہ میں مَیں چاہوں گا۔ فلاں کام کروں گا تو ایسی پیشگوئی پر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کے تمام کارخانہ پر اعتراض ہے اور لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی میں ایک یہ بڑی عظمت ہے کہ اس میں صرف میعاد چھ۶سال کی نہیں بتلائی گئی بلکہ یہ بھی تو بتلایا گیا تھا کہ وہ ایسے دن میں اپنی سزا کو پہنچے گا جو عید کے دن سے ملا ہوا ہوگا۔ چنانچہ لیکھرام کا نام گوسالہ سامری اسی لئے رکھا گیا کہ گوسالہ عید کے دن جلایا گیا تھا۔ اور صریح الہام میں بھی عید کا دن آگیا۔ اور ایسا شہرت پاگیا جو صدہا ہندوؤں میں وہ الہام مشہور ہوگیا۔ اور الہام اور کشف نے صاف لفظوں میں یہ بھی بتلا دیا کہ وہ ہیبت ناک موت ہوگی اور قتل کے ذریعہ سے وقوع میں آئے گی۔ اور کشف نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ موت کا دن اتوار اور رات کا وقت ہوگا۔ اب دیکھو اس پیشگوئی میں کس قدر اعلیٰ درجہ کی غیب کی باتیں بھری ہوئی ہیں۔ اب کیا یہ صحیح نہیں کہ اگر ان تمام امور کو بہ ہیئت مجموعی اور بنظر یکجائی دیکھا جائے اور براہین کی پیشگوئی کو بھی ساتھ ملایا جائے تو بیشک یہ ضروری نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ پیشگوئیاں فوق العادت اور بالکل انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔ ہاں اگر کسی انسان کو یہ قوت حاصل ہے کہ ایسا دقیق در دقیق غیب بیان کرسکے اور ان امور کی سترہ۱۷