بھیؔ ان تینوں فتنوں کی خبر دیتی ہے۔ اب کیا یہ شہادتیں بہت سے قرائن کے ساتھ مضبوط ہوکر اس درجہ تک نہیں پہنچ گئیں جس کو قطعی اور یقینی کہتے ہیں؟ اور کیا یہ سترہ۷۱ برس کا ممتد سلسلہ الہامات کا جو ہمارے زمانہ سے اس غیر متعلق زمانہ تک جا پہنچتا ہے جہاں منصوبہ بازی کی قلم بکلی ٹوٹ جاتی ہے پوری تسلی پانے کے لئے کافی نہیں ہے؟ کیا اب بھی کوئی شبہ باقی ہے جس پر کوئی وہمی طبیعت کا آدمی زور دے سکتا ہے؟ اور یہ کہنا کہ لیکھرام میعاد کے پانچویں برس میں مرا چھٹے برس میں نہیں مرا۔ کیا اس اعتراض سے زیادہ کوئی اور حماقت بھی ہوگی؟ ایسے معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ الہام میں چھٹے سال میں مرنا شرط ضروری تھا۔ یہ الہام تو صاف لفظوں میں بتلا رہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے موت کے خاص وقت کو مخفی رکھ کر چھ برس کے عرصہ کا نشان دے دیا تھا کہ اس مدت میں جس وقت ارادۂِ الٰہی ہوگا لیکھرام کو ہلاک کیا جائے گا۔ کیا خدا پر یہ ممتنع ہے کہ کوئی امر اپنی مصلحت سے مخفی رکھے اور کوئی امر ظاہر کرے۔ ایسے بیہودہ اعتراض صرف اس بیوقوف کے مونہہ سے نکل سکتے ہیں جس کو الٰہی پیشگوئیوں کی فلاسفی کی خبر نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر نبیوں کی معرفت پیشگوئیاں ظہور میں آئیں ان میں یہ منظور رہا ہے کہ کسی قدر پیشگوئی کے ظہور کے وقتوں کو پوشیدہ بھی رکھا جائے۔ سو اکثر سنت الٰہی اس طرح پر واقع ہے کہ ایک بات کے ہونے کے لئے ایک حد مقرر کر دی جاتی ہے۔ آئندہ خدا کا اختیار ہے چاہے تو اس حد کے پہلے حصہ میں ہی اس بات کو پوری کر دے اور چاہے تو آخری حصہ میں پوری کرے اور چاہے کوئی حد نہ لگائے۔ اور کوئی میعاد بیان نہ فرمائے۔ خدا کی کتابوں میں صدہا ایسی پیشگوئیاں پاؤ گے جن کے ظہور کا کوئی وقت نہیں بتلایا گیا۔ یہ نہایت صاؔ ف بات ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ایک وعدہ فرمائے کہ اس عرصہ تک ایک کام جس وقت چاہوں کر دوں گا۔ تو کیا انسان اس پر اعتراض کر سکتا ہے کہ ایک خاص وقت کیوں نہیں بتلایا؟ ہاں اگر خدا تعالیٰ ایک میعاد مقرر کر کے صاف لفظوں میں یہ فرمائے کہ جب تک یہ کل میعاد گذر نہ جائے اور اس کا آخری منٹ یا آخری سیکنڈ نہ پہنچے تب تک