ہوں گی۔ اور وہ الہام یہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں ہے میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولوالعزم۔ فلمّا تجلّٰی ربّہ لِلجَبَل جعلہ دکّا۔
ان الہامات میں صاف فرما دیا کہ وہ قتل کے منصوبے اس وقت ہوں گے جبکہ ایک چمکدار نشان ظاہر ہوگا۔ اسی وجہ سے ان منصوبوں کا نام آخیر کے الہام میں فتنہ رکھا۔ اور فرمایا کہ اس جگہ ایک فتنہ ہوگا پس اولواالعزم نبیوں کی طرح صبر چاہئے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ آخر وہ فتنہ نابود ہو جائے گا۔
یہ تین۳ فتنے ہیں جن کا براہین میں ذکر ہوا اور یہ تینوں ظہور میں بھی آگئے۔ چمکدار نشان کا فتنہ صرف زبانی شور و غوغا تک محدود نہیں رہا بلکہ ۸؍ اپریل ۱۸۹۷ء کو ہمارے گھر کی تلاشی بھی ہوگئی۔ تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو عیسیٰ کا نام رکھنے میں مخفی تھی۔ اب جیسا کہ براہین احمدیہ کے پڑھنے سے ان تین فتنوں کی خبر ملتی ہے۔ ایسا ہی اگر کوئی ہماری سوانح کا وہ نسخہ پڑھے جو براہین کے وقت سے اس وقت تک مکمل ہوا۔ تب بھی اس کو ماننا پڑتا ہے کہ خارج میں بھی تین ہی فتنے ظہور میں آئے۔ اس تحقیقات سے نہ صرف وہ پیشگوئی جو لیکھرام کی نسبت کی گئی تھی ان تائیدی ثبوتوں سے مضبوط ہوتی ہے بلکہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ بھی ایسی کھل جاتی ہے جیسا کہ دن چڑھ جاتا ہے۔ غرض ان تینوں فتنوں پر نظر غور ڈال کر خدا کی قدرت کاملہ کا پتہ لگتا ہے یہ ایک ایسا مقام ہے کہ اس کو یونہی بیہودہ باتوں سے ٹالنا نہیں چاہئے بلکہ پوری توجہ کے ساتھ اس میں غور کرنی چاہئے۔ بلاشبہ ایک طالب حق کی پاک روح اور پاک کانشنس اس مقام سے اطلاع پاکر بہت سے حجابوں سے نجات پا سکتی ہے اوربیشک اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آتھم اور لیکھرام کی نسبت پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی بلکہ کوئی اتفاقی امر تھا تو کیونکر یہ دونوں پیشگوئیاں آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھی گئیں؟ اس بات سے کوئی منصف کہاں اور کدھر بھاگ سکتا ہے کہ جیسا کہ خارجی واقعات سے تین فتنوں کا نشان ملتا ہے ایسا ہی براہین احمدیہ