چمکدؔ ار نشان نہ دکھاتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ ایسا ہی خدا نے اپنے ان تمام ارادوں کو پورا کیا۔ لیکھرام کیا مرا تمام آریوں کو مار گیا۔ اسلام کا بول بالا ہوا۔ اور ہندو خاک میں مل گئے۔ بڑی عزت کے ساتھ میدان ہمارے ہاتھ رہا۔ اور ثابت ہوگیا کہ خدا وہی خدا ہے جو اسلام کا خدا اور قرآن کا نازل کرنے والا ہے۔ اب اس کے ساتھ اگر ہمیں گالیاں دی گئیں۔ اگر ہمیں قتل کرنے کیلئے ڈرایا گیا۔ اگر ہمارے گھر کی تلاشی کرائی گئی تو اس خوشی کے مقابل یہ تمام غم کچھ چیز نہیں ہیں بلکہ اس فتنہ سے ایک اور پیشگوئی پوری ہوئی جو ابھی ہم بیان کریں گے اور لیکھرام کے مرنے سے دشمن کا منہ کالا تو ہو چکا تھا مگر ہمارے گھر کی تلاشی نے اور بھی انکے مکروں پر خاک ڈال دی۔ اور جھوٹ کاناک بڑی صفائی سے کاٹا گیا!
یہ تین فتنے ہیں جو براہین کے زمانہ سے آج تک ہمیں پیش آئے۔ اور یہ ایسے کھلے کھلے وقوع میں آئے ہیں کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے ملک کا ہر ایک شخص جو انسان کہلانے کا حق رکھتا ہے ان تینوں فتنوں سے بخوبی واقف ہے۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ آیا یہ تین فتنے براہین احمدیہ میں ذکر کئے گئے ہیں یا نہیں۔ سو میں روز روشن کی طرح دیکھتا ہوں کہ یہ تینوں فتنے پادریوں کے فتنہ سے لے کر چمکدار نشان کے فتنہ تک براہین احمدیہ میں ذکر کئے گئے ہیں۔ بلکہ ہر ایک ذکر کے وقت فتنہ کا لفظ بھی موجود ہے۔ سو اب ایک پاک دل اور پاک نظر لے کر مندرجہ ذیل عبارتوں کو پڑھو جو براہین احمدیہ سے نقل کر کے میں اس جگہ لکھتا ہوں اور وہ یہ ہیں:
پہلا فتنہ۔ صفحہ ۲۴۱ براہین احمدیہ ولن ترضی عنک الیھود ولا النصاری۔ و خرقوا لہ بنین و بنات بغیر علم۔ قل ھو اللّٰہ احد اللّٰہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد۔ و یمکرون و یمکراللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولوالعزم و قل ربّ ادخلنی مدخل صدق۔ ترجمہ یعنی یہود تجھ سے راضی نہیں ہوں گے۔ یہود سے مراد اس جگہ یہود صفت مولوی ہیں جن کا ذکر براہین میں اس سے پہلے صفحہ میں ہے۔ اور پھر فرمایا کہ نصاریٰ بھی تجھ سے راضی نہیں ہوں گے یعنی پادری۔ اور فرمایا کہ انہوں نے نادانی سے خدا کے بیٹے اور بیٹیاں بنا رکھی ہیں۔ ان پادریوں کو کہہ دے کہ خدا ایک ہے۔ وہ ذات بے نیاز ہے۔ نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہم جنس (یہ اس مباحثہ کی طرف اشارہ ہے جو تثلیث اور توحید کے بارے میں ڈاکٹر مارٹن کلارک کی کوٹھی پر بمقام امرتسر پیشگوئی سے چند روز پہلے کیا گیا تھا) اور پھر فرمایا کہ یہ عیسائی تجھ سے ایک مکر کریں گے اور خدا بھی ان سے مکر کرے گا۔ یعنی