عملدؔ اری اس ملک میں آئی ہے اس کی نظیر کسی وقت میں نہیں پائی جاتی اور صرف اسی پر اکتفا نہیں تھی بلکہ پشاور سے لیکر بمبئی کلکتہ الہ آباد وغیرہ میں بڑے بڑے جلسے کئے اور اخباروں میں محض افترا کے طور پر واقعات شائع کئے اور جاہل مولویوں اور عوام کالانعام کو برانگیختہ کیا اور ہزاروں اشتہار جو لعنتوں سے بھرے ہوئے تھے ملک میں تقسیم کئے اور لوگوں پر یہ اثر ڈالنا چاہا کہ دین اسلام ہیچ ہے۔ اور بعض مولوی دنیا کے کتّے ان کی ہاں کے ساتھ ہاں ملانے لگے اور یہ فتنہ تمام فتنوں سے بڑھا ہوا تھا کیونکہ اس میں صرف میری ذات پر ہی حملہ نہیں تھا بلکہ بڑا مقصد یہ تھا کہ اسلام کو ذلیل اور حقیر کر کے دکھلائیں۔ مولوی یہودی صفت ان کے ساتھ تکذیب میں شامل ہوگئے اور کہا کہ اگر عیسائی تکذیب کریں تو کیا حرج ہے یہ شخص تو خود کافر ہے۔ اور حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ عیسائی اس راقم کو بھی مسلمان جانتے ہیں۔ غایت کار مسلمانوں میں سے ایک فرقہ کا سرگروہ خیال کرتے ہیں سو ان ظالموں نے ناحق میری دشمنی سے عیسائیوں کی زبان سے دین اسلام سے ٹھٹھے کرائے بلکہ بار بار ان کو نالش کرنے کیلئے ترغیب دی۔ دوسرا فتنہ۔ جو دوسرے درجہ پر ہے شیخ محمد حسین بٹالوی کا فتنہ ہے اس ظالم نے بھی وہ فتنہ برپا کیا کہ جس کی اسلامی تاریخ میں گذشتہ علماء کی زندگی میں کوئی نظیر ملنی مشکل ہے مخبط الحواس نذیر حسین کی کفرنامہ پر مہر لگوائی۔ صدہا مسلمانوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا اور بڑے زور سے گواہیاں ثبت کرائیں کہ یہ لوگ نصاریٰ سے بھی کفر میں بدتر ہیں تمام رشتے ناطے ٹوٹ گئے۔ بھائیوں نے بھائیوں کو اور باپوں نے بیٹوں کو اور بیٹوں نے باپوں کو چھوڑ دیا اور ایسا طوفان فتنہ کا اٹھا کہ گویا ایک زلزلہ آیا جس سے آج تک ہزاروں خدا کے نیک بندے اور دین اسلام کے عالم اور فاضل اور متقی کافر اور جہنم ابدی کے سزاوار سمجھے جاتے ہیں۔!!! تیسرا فتنہ۔ جو تیسرے درجہ پر ہے آریوں کا فتنہ ہے جو ایک چمکدار نشان کے ساتھ ہوا اور یہ فتنہ اس لئے تیسرے درجہ پر ہے کہ باوجود سخت بلوہ کے اس کے ساتھ فتح کا نمایاں نشان تھا۔ یہ سچ ہے کہ اس میں ہندوؤں کا بڑا شور و غوغا ہوا اور بار بار قتل کرنے کی دھمکیاں دیں اور گالیوں سے بھرے ہوئے خط بھیجے۔ کئی اخباروں میں حد سے زیادہ سخت گوئی کی گئی اور پھر آخر گورنمنٹ کی معرفت خانہ تلاشی کرائی گئی مگر باوجود ان سب باتوں کے فتح کا جھنڈا ہمارے ہاتھ میں رہا۔ وہ معاہدہ جو لیکھرام کے ساتھ مذہبی آزمائش کیلئے بذریعہ آسمانی نشان کے کیا گیا تھا اس کی رو سے ہمارے مولیٰ کریم نے ہندوؤں پر ہماری ڈگری کر کے بڑی صفائی سے ہمیں فتح دی اور جیسا کہ پہلے سے براہین احمدیہ میں یہ الہام تھا کہ اگر خدا ایسا نہ کرتا یعنی ایسا