اول ان کو دلیر کر دے گا اور پھر ذلت پر ذلت پہنچائے گا۔ اور پھر فرمایا کہ خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ اس وقت پادریوں کی طرف سے ایک فتنہ ہوگا اور وہ ایک پرجوش بلوہ کی صورت میں تکذیب کریں گے۔ سو اس فتنہ کے وقت صبر کر جیسا کہ اولواالعزم نبی صبر کرتے رہے اور دعا کر کہ خدایا میرا صدق ظاہر کر۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ مکر سے مراد وہ لطیف اور مخفی تدبیر ہے جو دشمن کو ذلیل یا معذب کرنے کیلئے خداتعالیٰ کی طرف سے ظہور میں آتی ہے۔ بعض وقت نادان دشمن ایک جھوٹی خوشی سے مطمئن ہو جاتا ہے مگر خدا کی مخفی تدبیر جو دوسرے لفظوں میں مکر کہلاتی ہے اسے کہتی ہے کہ اے نادان کیوں خوش ہوتا ہے دیکھ تیری ذلت کے دن نزدیک آ رہے ہیں تب تیری خوشی غم سے مبدّل ہو جائے گی۔ غرض یہ پہلا فتنہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں لکھا گیا اور میرے پر گذر چکا۔
دوسرا فتنہوہ ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے۔ و اذ یمکر بک الذی کفر اوقد لی یا ھامان لعلی اطلع علٰی الٰہ موسٰی و انی لاظنّہ من الکاذبین۔ تبّت یدا ابی لھب و تب ما کان لہ ان یدخل فیھا الا خائفا۔ وما اصابک فمن اللّٰہ الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولوالعزم۔ الا انھا فتنۃ من اللّٰہ لیحب حبّا جمّا۔ حبّا من اللّٰہ العزیز الاکرم عطاء ا غیر مجذوذ۔ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب ایک مکفر تجھ سے مکر کرے گا جو تیرے ایمان سے انکاری ہے اور کہے گا اے ہامان! میرے لئے آگ بھڑکا (یعنی تکفیر کی آگ بھڑکا۔ ہامان سے مراد نذیر حسین دہلوی ہے) میں چاہتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں کیونکہ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ ہلاک ہوگیا ابولہب اور اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے (جن سے کفر کا فتویٰ لکھا) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس تکفیر کے کام میں دخل دیتا* اور جو کچھ تجھے پہنچے گا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس جگہ ایک فتنہ ہوگا۔ پس صبر کر جیسا کہ اولواالعزم نبیوں نے صبر کیا۔ یاد رکھ کہ یہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔ تا وہ تجھے حد سے زیادہ دوست رکھے۔ دیکھ یہ کیسا مرتبہ ہے کہ خدا کسی کو دوست رکھے۔ وہ خدا جس کا نام عزیز اکرم ہے۔ یہ وہ بخشش ہے جو کبھی منقطعؔ نہیں کی جائے گی۔
فرعون سے مراد محمد حسین ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کشف ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بالآخر ایمان لائے گا۔ مگر مجھے معلوم نہیں کہ وہ ایمان فرعون کی طرح صرف اس قدر ہو گا کہ آمنت بالذی آمنت بہ بنو اسرائیل یا پرہیز گار لوگوں کی طرح۔ واللّٰہ اعلم۔ منہ