وقت تک پورا ہوا ہے وہ ٹھیک ٹھیک تین فتنوں کے نیچےؔ ہوکر گذرا ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ ان تین فتنوں کے ساتھ کوئی اور فتنہ بھی تھا جس کو فتنہ چہارم کہنا چاہئے اور نہ کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ تین۳ فتنے نہیں ہیں بلکہ دو۲ ہیں۔ غرض تین کے عدد میں ایک ایسی حصر واقع ہوگئی ہے کہ جو نہ کم ہو سکتی ہے اور نہ قابل زیادت ہے ایک اجنبی شخص بھی جب میری سوانح کے لکھنے کیلئے بیٹھے گا اور میری لائف کے سلسلہ میں تلاش کرے گا کہ براہین احمدیہ کے زمانہ سے ان دنوں تک ایسے غیر معمولی بلوے پورے جوش سے بھرے ہوئے مختلف جماعتوں کی طرف سے کس قدر میرے پر ہو چکے ہیں جن کو فتنہ کے نام سے موسوم کرنا چاہئے تو وہ اس بات کے سمجھنے کیلئے کسی فکر کا محتاج نہ ہوگا کہ ایسے بلوے جو فتنہ کی حد تک پہنچ گئے اور پورے جوش کے ساتھ ظہور میں آئے صرف تین تھے۔ اوّل آتھم کے معاملہ میں پادریوں کا حملہ جنہوں نے واقعات کو چھپا کر پنجاب اور ہندوستان میں تکذیب کا ایک طوفان مچا دیا چونکہ ان کے دلوں میں بڑا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح اسلام کی تکذیب اور توہین کا موقعہ*ملے۔ سو انہوں نے آتھم کے زندہ رہنے کے وقت سمجھ لیا کہ اس سے بہتر شور و غوغا ڈالنے کیلئے اور کوئی موقعہ نہ ہوگا چنانچہ سب سے پہلے امرتسر میں انہوں نے محض سفلہ پن کی راہ سے خلاف واقعہ شور مچایا**اور گلی کوچہ میں آتھم کو ساتھ لے کر وہ زباں درازیاں کیں کہ جب سے انگریزی آتھم کے عذاب کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ نہایت صاف اور کھلے کھلے لفظوں میں تھی۔ اس میں یہ شرط موجود تھی کہ عذاب موت اس وقت نازل ہوگا کہ جب آتھم حق کی طرف رجوع نہ کرے اور آتھم پندرہ مہینے تک جو پیشگوئی کی میعاد تھی ایسے خلاف عادت طریق سے مذہبی مناظرات و تقریرات سے دستکش اور چپ رہا تھا جو اس کا چپ رہنا ہی اس کے دلی رجوع پر دلالت کرتا تھا پھر اس نے میعاد کے بعد جب یہ جھوٹے بہانے پیش کئے کہ میں ڈرتا تو ضرور رہا مگر وہ خوف تعلیم یافتہ سانپ سے اور دوسرے حملوں سے تھا جو میرے پر کئے گئے تھے۔ تب اس پر جب اس کو کہا گیا کہ یہ تمام تہمتیں بے ثبوت اور غیر معقول ہیں اور نیز میعاد کے بعد بیان کی گئی ہیں ان کو یا تو قسم سے ثابت کرنا چاہئے یا نالش سے یا کسی اور خانگی طریق سے۔ تو اس نے کوئی طریق اختیار نہ کیا بلکہ قسم پر چار ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا گیا تب بھی قسم کھا کر اپنی بریت ظاہر نہ کر سکا اور یہ تمام الزام اپنے ساتھ قبر میں لے گیا۔ الہام الٰہی میں یہ بھی تھا کہ اگر وہ اخفائے شہادت کرے گا تو جلد مر جائے گا۔ چنانچہ وہ ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر مرگیا۔ اب کیا اس پیشگوئی پر کوئی تاریکی تھی جس سے عیسائیوں نے شور مچایا؟ نہیں بلکہ ان کو آتھم کے ڈرتے رہنے کی خوب خبر تھی یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک بیماری میں آتھم نے چیخ مار کر کہا کہ’’ ہائے میں پکڑا گیا مگر عیسائیوں کو یہی منظور تھا کہ سچائی پر پردہ ڈالیں۔ انہوں نے اس شور میں بڑی نا انصافی کی۔ منہ پادریوں نے یہ تدبیریں بھی بہت کیں کہ کسی طرح آتھم نالش کر کے عدالت کے ذریعہ سے مجھ کو سزا دلائے لیکن چونکہ آتھم درحقیقت حق کے رعب سے مر چکا تھا اس لئے اس نے اس طرف رخ نہ کیا بلکہ نور افشاں میں صاف چھپوا دیا کہ پادریوں کا یہ بلوہ میری مرضی کے مخالف ہوا۔ منہ