ہو اوؔ ر وہ سچا ہو جائے پس یاد رکھنے سے مدعا یہ تھا کہ جب پیشگوئی خطا جائے گی یا عید پر پوری نہیں ہوگی تو ہنسی ٹھٹھے میں اڑائیں گے۔ لیکن جب خدانے اسی طرح پیشگوئی کو پورا کر دیا جیسا کہ لکھا گیا تھا تب ہندوؤں نے فی الفور اپنا پہلو بدل لیا اور کہا کہ ’’عید پر قتل کرنے کے لئے پہلے سے سازش ہو چکی تھی ورنہ خدا کی عادت ایسی نہیں ہے جو باریک اور خاص نشانوں کے ساتھ غیب کی خبریں کسی کو بتلاوے‘‘۔ مگر وہ قادر خدا جو سچائی کو مشتبہ کرنا نہیں چاہتا اس نے اس خیال کو بھی پہلے سے رد کر رکھا تھا جس کی ہندوؤں کو خبر نہیں تھی یعنی اس نے لیکھرام کے واقعہ قتل سے سترہ برس پہلے اس نشان کی براہین احمدیہ میں خبر دی ہے اور یہ خبر اس وقت لکھی گئی اور شائع کی گئی تھی جبکہ لیکھرام بارہ۱۲ یا تیرہ۱۳ برس کا ہوگا۔ اور یہ ایسے مرتب اور سلسلہ وار طرز پر براہین احمدیہ میں موجود ہے کہ انسانوں کو بجز ماننے کے بن نہیں پڑتا۔ ہم بفضلہ تعالیٰ رسالہ سراج منیر میں اس کو لکھ چکے ہیں اور مختصر طور پر اس کا یہ بیان ہے کہ براہین احمدیہ کے الہامات میں میری نسبت تین فتنوں کی خبر دی گئی ہے یعنی یہ بیان کیاگیا ہے کہ تین موقعہ پر تین فتنے تم پر برپا ہوں گے۔ اب قبل اس کے جو ان تینوں فتنوں کا ذکر کیا جائے صفائی بیان کیلئے اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہر ایک تکذیب فتنہ کے نام سے موسوم نہیں ہوسکتی۔ بلکہ صرف اس حالت میں کسی تکذیب کو فتنہ کے نام سے موسوم کیا جائے گا جبکہ وہ تکذیب ایک بلوہ کے رنگ میں ہو اور ایک جماعت باہمی اتفاق کر کے کسی کے مال یا جان یا عزت کی نقصان رسانی کی غرض سے اپنی طاقتوں کو اس حد تک خرچ کریں جہاں تک ایک شخص پورے اشتعال کی حالت میں کر سکتا ہے پس فتنہ میں ضروری ہے کہ ایک جماعت ہو اور وہ جماعت کسی کی ضرر رسانی کے ارادہ کیلئے پورے جوش کے ساتھ باہم اتفاق کرلیوے اور ایک بلوہ کی صورت میں ایک خطرناک مجمع بنا کر کسی کی عزت یا جان یا مال پر حملہ کرنے کیلئے مستعد ہو جائیں اور باہمی مشورہ سے ان تمام فریبوں کو اپنی طبیعتوں کے افروختہ ہونے کی حالت میں ایک غیر معمولی جوش کی طرز پر استعمال میں لاویں جس کے استعمال سے فریق مخالف پر کوئی ناگہانی آفت آنے کا اندیشہ ہو۔ اب جبکہ فتنہ کے لفظ کی تعریف معلوم ہو چکی تو ان تین فتنوں کو بیان کرتا ہوں مگر شاید سمجھانے کیلئے یہ انسب ہوگا کہ قبل اس کے جو میں ان تینوں فتنوں کی تفصیل براہین احمدیہ کے صفحات سے پیش کروں۔ اول وہ تینوں فتنے بیان کر دوں جو براہین احمدیہ کی تالیف اور شائع ہونے کے بعد میرے پر گذر چکے ہیں جن کے واقعات سے لکھوکھہا انسان گواہ ہیں بلکہ اگر میں کروڑہا کہوں تو یقیناً مبالغہ نہ ہوگا اس وقت میں اس دعویٰ پر زور دینے کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ میری زندگی کا وہ بڑا حصہ جو براہین کی تالیف کے بعد اس