پر غور کر ؔ کے آئندہ آزمائش کے بعد اپنی غلط رائے کے چھوڑنے کیلئے توفیق ملے اور رسالہ برکات الدعا جب تالیف کیا گیا تو اسی زمانہ میں سید صاحب کی خدمت میں بلاتوقف بھیجا گیا اور سید صاحب کا جواب بھی آگیا تھا کہ میں برکات الدعا کو دیکھ رہا ہوں پس ضرور سید صاحب نے ان مقامات کو بھی دیکھا ہوگا جن میں نمونہ دعائے مستجاب پیش کیا گیا تھا۔ غرض لیکھرام کی موت کیلئے دعا کرنا اگرچہ بوجہ اس کی بدزبانی اور بیباکی کے تھا لیکن یہ بھی مطلوب تھا کہ سید صاحب کی خدمت میں ایک نمونہ دعائے مستجاب پیش کیا جائے۔ اب سید صاحب کا فرض ہے کہ اپنی اس ناقص رائے کو بدل دیں۔ ایسا نہ ہو کہ ایک شخص* کی تو جان گئی اور سید صاحب وہیں کے وہیں رہے۔ یہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو لیکھرام کی موت کے بارے میں ۱۸۹۳ ؁ء میں عام طور پر شائع کی گئی تھیں اور جو شخص ان پر غور کرے گا اس کو ماننا پڑے گا کہ ان پیشگوئیوں میں قطعی طور پر ابتدائے ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ؁ء سے نامبردہ کی موت کیلئے چھ برس کی میعاد بتلائی گئی تھی اور کشفی واقعہ یہ بھی ظاہر کر رہا تھا کہ لیکھرام کی موت اتوار کے دن کو ہوگی۔ کیونکہ وہ فرشتہ جو لیکھرام کی سزا کیلئے آیا اتوار کی رات کو مجھ پر ظاہر ہوا تھاجس سے پایا جاتا تھا کہ لیکھرام کی موت کا دن اتوار کا دن ہوگا اور الہام میں یہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ عید کے ساتھ کے دن میں یعنی دوسری شوال میں یہ واقعہ پیش آئے گا اور خدا کی قدرت ہے کہ عید کا پتہ پہلے سے ہندوؤں نے خوب یاد کر رکھا تھا مگر اس وقت یہ امر غیر ممکن سمجھ کر صرف تکذیب کی غرض سے یاد کرلیا تھا کیونکہ وہ اپنی جہالت سے خیال کرتے تھے کہ ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں کہ پیشگوئی میں ایسا خاص نشان لیکھرام کے متعلق ایک یہ پیشگوئی تھی کہ یقضیٰ امرہ فی ستّ یعنی چھ میں اس کا کام تمام کیا جائے گا۔ اب تک مجھے معلوم نہیں کہ یہ پیشگوئی ہمارے کسی اشتہار یا کتاب میں یا ہمارے کسی دوست کی تالیف میں چھپ گئی یا نہیں۔ لیکن ہماری جماعت میں اس کی عام شہرت ہے اور یقین ہے کہ دوسروں تک بھی یہ پیشگوئی پہنچی ہو گی جیسا کہ آریوں میں عید کی پیشگوئی پہنچ گئی کیونکہ ہماری کوئی بات راز کے طور پر نہیں رہتی۔ اس پیشگوئی کا جیسا کہ مفہوم ہے ایسا ہی ظہور میں آیا۔ یعنی لیکھرام چھ ۶مارچ کو زخمی ہوا اور دن کے چھٹے گھنٹے میں زخمی ہوا۔ بٹالوی صاحب اگر اس زبانی روایت سے انکار کرتے ہیں تو حدیثوں کے قبول کرنے میں انہیں بڑی مشکل پڑے گی۔ کیونکہ وہ نہ صرف زبانی روایتیں ہیں بلکہ کم سے کم سو ڈیڑھ سو برس بعد میں لکھی گئیں۔ جو بات تازہ ہو اور جس کے دیکھنے اور سننے والے زندہ موجود ہیں اس سے انکار کرنا عقلمندوں کے نزدیک رسوا ہونا ہے۔ منہ