غرضؔ اس پیشگوئی کے سر پر یہ چند شعر ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بترس از تیغ بُرّان محمد جو صاف بتلا رہا ہے کہ لیکھرام کا انجام یہی تھا کہ وہ قتل کیا جائے اور آخیر کے شعر پر لیکھرام کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ بنایا ہوا ہے جیسا کہ اس جگہ بنا دیا گیا ہے تا یہ اشارہ ہو کہ تیغ بُرّان اسی پر پڑے گی اور اسی کی موت سے کرامت ظاہر ہوگی۔ پھر برکات الدعا کے صفحہ ۲۸ میں چند شعروں میں سید احمد خاں صاحب پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ پیشگوئی لیکھرام میں دعائے مستجاب کے نمونہ کی انتظار کریں اور آخری شعر کے نیچے مد کھینچ کر ان صفحات برکات الدعا کی طرف سید صاحب کو توجہ دلائی گئی ہے جن میں لیکھرام کی ہیبت ناک موت کا ذکر کر کے نمونہ دعائے مستجاب کا ذکر ہے اور وہ شعر یہ ہیں۔ روئے دلبر از طلب گاران نمی دارد حجاب می درخشد در خورد می تابد اندر ماہتاب لیکن این روئے حسین از غافلان ماند نہان عاشقے باید کہ بردارند ازبہرش نقاب دامن پاکش زِ نخوت ہا نمی آید بدست ہیچ را ہے نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راہ کوچۂ یار قدیم جان سلامت بایدت از خود روی ہاسربتاب تاکلامش عقل و فہم ناسزایان کم رسد ہرکہ از خود گم شود او یابد آن راہ صواب مشکل قرآن نہ از ابناء دنیا حل شود ذوق آنمَے داند آں مستیکہ نوشدآن شراب ایکہ آگاہی ندادندت زِ انوار درون درحق ما ہرچہ گوئی نیستی جائے عتاب از سر وعظ و نصیحت این سخن ہا گفتہ ایم تامگرزیں مرہمے بہ گردد آن زخمِ خراب از دعا کن چارۂ آزار انکار دعا چون علاج مَے زِمَے وقت خمار و التہاب ایکہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کُجاست سوئے من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب ہاں مکن انکار زین اسرار قدرتہائے حق قصّہ کو تہ کن بہ بین از ما دعائے مستجاب دیکھو صفحہ ۲۔۳۔۴ سرورق یہ آخری شعر کا دوسرا مصرعہ جس کے نیچے مَد ڈال کرنمبر۲۔۳۔۴ لکھے گئے ہیں یہ برکات الدعا میں اسی طرح مد ڈال کر لکھے گئے ہیں تا سید احمد خان صاحب ان صفحات کو نکال کر پڑھیں اور تا انہیں نمونہ دعائے مستجاب