تھی ؔ اورؔ وہ عید کے دن کا ہی واقعہ تھا جبکہ گوسالہ سامری خدا کے حکم سے پیسا گیا لہٰذا خداتعالیٰ نے لیکھرام کا نام گوسالہ سامری رکھ کر ایک ایسا لفظ استعمال کیا جو اس بات پر دلالت التزامی کر رہا تھا کہ لیکھرام بھی عید کے دنوں میں ہی قتل کیا جائے گا۔ اور اگرچہ خدا تعالیٰ کے کلام کے باریک بھید جاننے والے گوسالہ سامری کا نام رکھنے سے اور پھر اس عذاب کا ذکر کرنے سے سمجھ سکتے تھے کہ ضرور ہے کہ لیکھرام کی موت بھی اپنے دن کے لحاظ سے گوسالہ سامری کی تباہی کے دن سے مشابہ ہوگی مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں اس اجمال پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صریح لفظوں میں فرما دیا کہ ستعرف یوم العید والعید اقرب یعنی لیکھرام کا واقعہ قتل ایسے دن میں ہوگا جس سے عید کا دن ملا ہوا ہوگا اور یہ پیشگوئی کہ عید کے دن کے قریب لیکھرام کی موت ہوگی ہماری طرف سے ایک ایسی مشہور خبر تھی کہ ہندوؤں نے لیکھرام کے مرنے کے ساتھ ہی شور مچا دیا کہ یہ شخص پہلے سے کہتا تھا کہ لیکھرام عید کے دنوں میں مرے گا۔ جیسا کہ پرچہ سماچار پنجاب وغیرہ ہندو اخباروں نے اس پر بہت ہی زور دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض شریر ہندوؤں نے پیشگوئی کی یہ تفصیلیں ہمارے مُنہ* سے سن کر اس وقت ایک غیر ممکن امر کی طرح کسی وقت ہمیں ملزم کرنے کیلئے انہیں یاد رکھا تھا یعنی یہ خیال تھا کہ ایسی کھلی کھلی نشانیاں ہرگز پوری نہیں ہوں گی اور ہم پیچھے سے شرمندہ کریں گے مگر جب لیکھرام حقیقت میں عید کے دوسرے دن مارا گیا تو ان پیشگوئیوں کو دوسرے پہلو پر ناقابل اعتبار کرنا چاہا یعنی یہ کہ عید کا دن پہلے سے سوچ سمجھ کر باہمی مشورہ سے قرار دیا گیا تھا لیکن اگر یہی سچ تھا تو کیوں لیکھرام کی عید کے دنوں میں پوری حفاظت نہ کی گئی تا وہ منصوبہ پیش نہ جاتا جس کا آریوں کو کئی برسوں سے علم تھا۔ عجیب اتفاق یہ ہوا کہ جس دن لیکھرام کی جان نکلی یعنی اتوار کا روز وہ آریوں نے خاص ایک عید کا دن ٹھہرایا تھا۔ اول تو وہ خود اتوار کا دن تھا جو ہندوؤں کی عیدوں میں سے ایک عید ہے۔ دوسرے قاتل کے شدھ کرنے کیلئے جو اپنے تئیں نو مسلم ظاہر کرتا تھا وہ ایک خوشی کا دن ٹھہرایا گیا تھا جس میں عام جلسہ میں قاتل کو پھر ہندو بنانے کا ارادہ تھا۔
غرض عجل کا نام جو لیکھرام کو الہام الٰہی نے دیا یہ ایک نہایت دقیق راز اپنے اندر رکھتا تھا اور کئی رموز غیبیہ کے اشارے اس میں بھرے ہوئے تھے۔ ایک تو یہی جو عید کے دنوں میں گوسالہ سامری کی طرح غضب الٰہی کے نیچے آنا۔ دوسرے یہ کہ گوسالہ سامری انسان کے ہاتھوں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور پھر دریا میں ڈالا گیا چنانچہ یہ تینوں باتیں لیکھرام کے ساتھ بھی ظہور میں آئیں تیسرے یہ کہ گوسالہ سامری کی پرستش کی گئی تھی اور خدا نے اس قوم پر ایکؔ وبا کی بیماری بھیجی جو غالباً طاعون تھی۔
ضمیمہ پنجاب سماچار ۱۰؍مارچ ۱۸۹۷ء میں میری نسبت لکھا ہے کہ’’ کہا کرتے تھے کہ پنڈت کو مار ڈالیں گے اور اس عرصہ میں اور فلاں دن (یعنی عید کے دوسرے دن میں) ایک دردناک حالت میں مرے گا‘‘۔ سو یہ بات تو ایڈیٹر نے اپنی طرف سے بنالی کہ مار ڈالیں گے لیکن دن اور صورتِ موت کا ذکر یہ خود ہماری پیشگوئی کا ایک مشہور منشاء تھا۔ جو بلاشبہ بہت مرتبہ بیان کیا گیا تھا۔ منہ