یکدؔ فعہ خون ہو جائے گا۔ پھر دوسری الہامی پیشگوئی جو لیکھرام کی نسبت ہوئی وہ کرامات الصادقین کے صفحہ ۵۴ اور صفحہ اخیر ٹائٹل پیج میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے: الا اننی فی کُلّ حرب غالب فکدنی بما زَوّرتَ فالحق یغلبٗ وبشّرنی ربّی و قال مبشّرا ستعرف یوم العید والعید اقربٗ و منھا ما وعدنی ربّی و استجاب دعائی فی رجل مفسد عدوّ اللّٰہ و رسولہ المسمّی لیکھرام الفشاوری۔ واخبرنی ربّیانّہ من الھالکین۔ انہ کان یسب نبیّ اللّٰہ و یتکلم فی شانہ بکلمات خبیثۃ فدعوت علیہ فبشرنی ربّی بموتہ فی ستّ سنۃ ان فی ذالک لاٰیۃ للطالبین۔ ترجمہ۔ میں ہر ایک جنگ میں غالب ہوں یعنی ہر ایک مقابلہ میں مجھے غلبہ ہے پس (اے محمد حسین بٹالوی) جو کچھ تو مکر کرتا ہے بیشک کر کہ آخر حق ضرور غالب ہوگا۔ اور مجھے خدا نے ایک نشان کی خوشخبری دے کر کہا کہ تو عید کا دن عنقریب پہچان لے گا۔ یعنی وہ خوشی کا دن جس میں وہ نشان ظاہر ہوگا اور اس نشان کی یہ علامت ہے کہ اس دن سے معمولی عید قریب ہوگی۔ اور خدا نے مجھے وعدہ دیا اور ایک مفسد خدا اور رسول کے دشمن کے بارے میں میری دعا سنی جو لیکھرام پشاوری ہے اور مجھے خبر دی کہ وہ مر ے گا۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیا کرتا تھا اور پلید باتیں منہ پر لاتا تھا۔ پس میں نے اس پر بددعا کی سو خدا نے میری دعا قبول کرکے مجھے خبر دی کہ وہ چھ برس کے عرصہ میں مرجائے گا۔ اور اس میں ڈھونڈنے والوں کیلئے نشان ہیں۔ اور یہ الہام کہ عجل جسدلہ خوار۔ لہ نصب و عذاب جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے اور اسی گوسالہ کی طرح اس کو عذاب ہوگا۔ یہ نہایت پرمعنی الہام ہے جو گوسالہ سامری کی مشابہت کے پیرایہ میں نہایت اعلیٰ اسرار غیب کے بیان کر رہا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ گوسالہ سامری یہودیوں کی عید کے دن میں ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا۔ جیسا کہ توریت خروج باب ۳۲ آیت ۵ سے ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ ہے۔ ’’ہارون نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل خداوند کی عید ہے‘‘ سو ایسا ہی اسلامی عید کے دن کے قریب یعنی ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ء کو لیکھرام قتل ہوا اور چونکہ گوسالہ سامری کے تباہ کرنے کیلئے خدا کی کتابوں میں عید کے دن کی خصوصیت